AFKAR-E-FAQEER افکار فقیر
PKR: 2,500/- 1,875/-
Author: SYED SARFRAZ A. SHAH
Binding: hardback
Pages: 272
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-697-8
Categories: ISLAM SUFISIM TASAWUF / MYSTICISM
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 22 June 2026
سرفراز احمد شاہ
12 جون 1944ء کو جالندھر کے ایک نجیب الطرفین سیّد گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ہیں۔ مختلف سرکاری اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ عرصہ برمنگھم یونیورسٹی میں مینجمنٹ کے موضوع پر بطور وزٹنگ فیکلٹی لیکچرز بھی دیے۔ مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے ایک معروف صنعتی و تجارتی گروپ کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں 65 سے زائد ممالک کا دورہ کرچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم اور عالمی رجحانات پر گہری اور متوازن نظر رکھتے ہیں۔
دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی و رُوحانی تعلیمات سے اُن کی دیرینہ دلچسپی ہے۔ اپنی گوناگوں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کی صحبت سے لاکھوں لوگ مستفیض ہو چکے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے سرفراز شاہ صاحب کو توکل، اطمینان اور یقین کی دولت سے بےحساب نوازا ہے جسے وہ اپنے دوستوں میں کھلے دل سے بانٹتے رہتے ہیں۔ اُس ذاتِ اقدس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کے لہجے میں ایسی محبت، جذبہ اور مان ہوتا ہے جو سامعین کے دلوں میں رب تعالیٰ کی محبت، قرب اور دوستی کے حصول کی تڑپ بیدار کردیتا ہے۔ خوش کلام اِتنے کہ دھیمے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جب گُفتگو کرتے ہیں تو گویا وقت کی گردش تھم جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید سرفراز احمد شاہ دورِ حاضر میں پاک و ہند کے اُن معدوے چند دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا دینی اور دنیاوی علم بیک وقت قابلِ تعریف اور مستند ہے۔
— امجد اسلام امجد
میری خواہش ہے کہ یہ کتاب وہ لوگ بھی پڑھیں جو تشکیک کا شکار ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنی سوچ کی راہیں بدل لیں، کیونکہ میرے نزدیک تشکیک ہی ایک دن منزل تک لے جانے والی ہوتی ہے۔
— عطاء الحق قاسمی
محترم سید سرفراز اے شاہ کے نزدیک تصوف کا مقصد دُنیا سے کنارہ کشی نہیں بلکہ دُنیا میں رہتے ہوئے باوقار اور باعمل انسان بننا ہے۔ وہ تصوف کو تقدیر پرستی کی بجائے خود احتسابی اور عملی جدوجہد سے جوڑتے ہیں۔
— قیوم نظامی
سید سرفراز شاہ صاحب کی مجلس میں موضوع کوئی بھی زیرِبحث ہو، تان ہمیشہ خالق و مالک حقیقی اللہ عزوجل سے بالواسطہ نہیں بلاواسطہ جڑنے، مانگنے اور مانگتے چلے جانے پر ٹوٹتی ہے اور انسان کچھ دیر کے لیے صرف اپنے رب کا ہوکر رہ جاتا ہے۔
— ارشاد احمد عارف
سائنسی پس منظر اور جدید عقلیات کے پس منظر میں شدید ضرورت تھی کہ تصوف کی داخلی دنیا سے کوئی صاحبِ معرفت صوفی اُٹھے اور اس عظیم علمی میراث کو عام فہم انداز سے نئی نسل تک منتقل کرے۔ ازحد مسرت سے یہ ماننا پڑے گا کہ قبلہ سید سرفراز شاہ صاحب نے یہ کام کمال درجہ عمدگی اور مہارت سے انجام دیا ہے۔
— عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھیں دیکھ کر میں سمجھا کہ یہ شاہ صاحب کے کوئی کارکن ہیں۔ اصل شاہ صاحب ابھی تشریف لائیں گے۔ سفید ریش ہوں گے، لمبا چغا زیب تن ہو گا، انداز معززیت سے بھرپور ہو گا، جیسے مروجہ عالم دین، بزرگ یا پیر فقیر ہوتے ہیں۔ پتا نہیں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ علمائے کرام، بزرگ اور پیر صاحبان کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ ہم میں سے نہ ہوں، جیسے وہ کوئی مختلف مخلوق ہوں۔ شاہ صاحب کے پاس بیٹھ کر میں نے محسوس کیا جیسے وہ ہم میں سے تھے، جیسے میرے پاس کوئی دوست یا ساتھی بیٹھا تھا۔ اس کے برعکس علمائے دین کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے نقیب کہہ رہے ہوں۔ ہٹو بچو، باادب، باملاحظہ ہوشیار، عالی جناب، عالم دین قدم رنجا فرما رہے ہیں۔ شاہ صاحب کو دیکھ کر میرا یقین ایمانِ کامل میں بدل گیا اور میں نے محسوس کیا جیسے میں ان کی خدمت میں خود حاضر نہیں ہوا، بلکہ بھیجا گیا ہوں۔
شاہ صاحب کا اسمِ گرامی سرفراز اے شاہ ہے، وہ ایک معروف کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے مرشد محترم سید یعقوب علی شاہ ہیں جن کا وصال 13 اگست 1986ء کو ہوا، مزارِ اقدس میانی صاحب لاہور میں واقع ہے۔ ان کا سلسلہ چشتیہ، صابریہ، وارثیہ ہے۔ سید سرفراز شاہ کو خلافت 1984ء میں عطا ہوئی تھی۔ جب سے خدمتِ خلق جاری ہے۔ ہفتے میں ایک دن حاجت مندوں اور سائلوں سے بلاامتیاز اور بلا افتراق و تفریق ملتے ہیں۔ مشورہ دیتے ہیں، دعا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیر خانے کا رنگ سراسر مفقود ہے۔
— ممتاز مفتی
(’’الکھ نگری‘‘ سے ماخوذ)
