Aap Beeti Jag Beeti

AAP BEETI JAG BEETI آپ بیتی جگ بیتی

Inside the book
AAP BEETI JAG BEETI

PKR:   1,200/- 600/-

Author: JAMILA HASHMI
Binding: hardback
Pages: 248
ISBN: 978-969-662-626-8
Categories: SHORT STORIES URDU CLASSICS
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

جمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔

جمیلہ ہاشمی مشترکہ تہذیب کی آخری گواہ ہیں۔ بعض اوقات کسی ادیب کا ایک پہلو اس کی تحریر کے دیگر پہلوئوں کو لپیٹ لیتا ہے، بالخصوص عزیز احمد، مستنصر حسین تارڑ اور جمیلہ ہاشمی جیسے افسانے کے اہم نام اپنے ناولوں کی اوٹ میں چُھپ گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی ایک طالبہ کو جمیلہ ہاشمی کے افسانوں پر مقالے کا موضوع تجویز کیا لیکن باوجود بسیار کوشش، جمیلہ ہاشمی کے افسانوں کا کوئی ایک بھی مجموعہ کسی کتب خانے، پبلک یا نجی لائبریری سے دستیاب نہ ہو سکا، سو موضوع تبدیل کرنا پڑا۔
بک کارنر جہلم ادب کی ان گم گشتہ کڑیوں کا احیا جس طور کر رہا ہے یہ ادب کی روایت کو زندہ رکھنے اور مستقبل کے قارئین کو اپنے ماضی سے جوڑے رکھنے کی ایک بےلوث کوشش ہے۔ اس ادارے نے جمیلہ ہاشمی کے افسانوی مجموعے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ کو نئی اشاعت دے کر گم ہوتے اس نسخے کو محفوظ کر دیا ہے۔
جمیلہ ہاشمی بلا شبہ ناول میں مستند اور بڑا نام ہے۔ ان کے ناول تاریخی پس منظر اور معروف کرداروں کو متعارف ہی نہیں کرواتے، حیاتِ نو بھی دیتے ہیں لیکن ناول کے بڑے کینوس، معروف واقعات، ادوار اور کرداروں سے ہٹ کر تخلیقی اور سماجی کہانی لکھنا اور اسے چند صفحات میں یوں سمیٹنا کہ ناول کی ضخامت افسانے میں سمو کر چراغ کی لپک بن جائے، زیادہ بڑا تخلیقی تجربہ ہے جسے جمیلہ ہاشمی نے انتہائی ہنرمندی سے ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘ میں جزو بدن کیا ہے۔
جمیلہ ہاشمی کے افسانے مشترکہ تہذیب کے آخری نقوش ہیں، ان کے بعد ہندوستانی افسانہ اور پاکستانی افسانہ اپنے اپنے ماحول اور مسائل میں مقید ہو گیا ہے۔ ان کے افسانے مشترکہ ہندوستان کی بُو باس، بلاتفریق مذہب و قومیت اور کرداروں کے نفسیاتی تجزیے ہیں، مشترکہ کلچر کے حامل دیہات اور شہر، جو انسانیاتی بنیادوں پر اپنی پہچان کرواتے ہیں، جن میں ہندو پانی مسلم پانی کی تفریق نہیں ہے، بلکہ ایک صائب جذبے اور مجموعی راست مزاجی میں گُندھے ہیں۔
فنی بنیادوں پر جمیلہ ہاشمی کے افسانے جس بُنت، کرافٹ، زبان، موضوع، کردار، فضابندی اور ماجرائے زمین کو پیش کرتے ہیں، اس کا مطالعہ ادب کے قاری کی ضرورت ہے۔ اس ادبی و علمی سرمائے کی حفاظت ادب کی ضرورت ہے۔ اُردو افسانے کی اس کڑی کو ادب کی روایت میں محفوظ کرنے کے لیے بک کارنر نے جو کوشش کی ہے، اس پر میں انھیں مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
(طاہرہ اقبال)

RELATED BOOKS