AYNA KIYUN NA DUN آئینہ کیوں نہ دوں
AYNA KIYUN NA DUN آئینہ کیوں نہ دوں
PKR: 1,999/- 1,399/-
Author: JAWAD SARWAR SYED
Binding: hardback
Pages: 222
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-690-9
Categories: POETRY
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 05 May 2026
ہزار چہرے اگرچہ دُنیا میں روبرو تھے، مگر وہ چہرہ
ہزار لمحے دلِ شکستہ کی جستجو تھے، مگر وہ چہرہ
خیال ایسے بھی جی میں آئے جو ہفت اقلیم میں نہ پائے
بہت تھے ایسے جو لائقِ صد ہزار جُو تھے، مگر وہ چہرہ
---
یہ عجیب شہرِ طلسم ہے جہاں حُسن ایسا اثر کرے
کوئی دیکھ کر اسے جی اٹھے کوئی اُس کے حال پہ مٹ مرے
ہیں امید و بیم کے سلسلے یہ قرابتیں ہیں کہ فاصلے
کہ انا کے سیلِ عمیق میں بہے جا رہے ہیں پرے پرے
---
یاد کے جزیرے پر رنگ کے بہاؤ میں
موسموں کی بارش کے گیت کے چناؤ میں
دل کو کر لیا میں نے قید اب دلیلوں میں
اس طرح سے سمٹا ہوں دردِ دل کے گھاؤ میں
---
خود سے اصلاحِ شب و روز کا وعدہ کر کے
توڑ دیتا ہوں میں ہر روز ارادہ کر کے
جان پر قرض چکا کر اسے احساں جانا
قد گھٹا بیٹھا ہوں دعوے کو زیادہ کر کے
---
عالَمِ تِیرہ شبی کا نصف باقی ہے ابھی
یعنی میری زندگی کا نصف باقی ہے ابھی
ہمرہانِ قافلہ تو کُوچ کب کے کر گئے
پَر مری واماندگی کا نصف باقی ہے ابھی
---
میں صبح کا بھولا تھا مگر شام سے پہلے
گھر جا نہ سکا، گردشِ ایام سے پہلے
ٹک آنکھ لگی ہے مجھے آواز نہ دینا
اٹھوں گا نہ میں حشر کے ہنگام سے پہلے
---
میں ڈگمگاؤں اگر، مجھ کو روکنے والا
کوئی رہا نہیں اب مجھ کو ٹوکنے والا
ڈرائے گا مجھے کیا پُرسشِ قیامت سے
مجھے شعور کی دوزخ میں جھونکنے والا
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
