Azadi-e-Hind - Buy Online | Book Corner

AZADI-E-HIND آزادئ ہند

Inside the book
AZADI-E-HIND

PKR:   1,800/- 1,080/-

Author: ABUL KALAM AZAD
Translator: SHAMIM HANFI
Editor: HUMAYUN KABIR
Binding: hardback
Pages: 310
ISBN: 978-969-662-305-2
Categories: HISTORY AUTOBIOGRAPHY MEMOIR POLITICAL SCIENCE TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER

انڈیا وِنز فریڈم نے آخرکار خود اپنی آزادی جیت لی۔ اس خودنوشت بیانیے کا مکمّل متن، مہربند کرکے نیشنل لائبریری کلکتہ اور نیشنل آرکائیوز نئی دہلی میں تیس برس تک محصور رکھا گیا۔ 1958ء میں راوی مولانا ابو الکلام آزاد اور راقم ہمایوں کبیر نے اشاعت کے لیے ایک قدرے مختصر اور نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا تھا جس میں سے ایسے واقعات اور تاثّرات جو بالخصوص ذاتی نوعیت کے تھے، الگ کر دیے گئے تھے۔ اشاعت کے پہلے ہی سال میں اس مسودے کے تین بڑے ایڈیشن نکلے اور اس وقت سے یہ بارہا شائع کیا جا چکا ہے۔ اب ہمارے سامنے مکمّل متن ہے جسے ایک عدالتی ہدایت کے ذریعے ستمبر 1988ء میں رہائی ملی۔ نہ صرف یہ کہ اصل عبارت کے تمام الفاظ اور فقرے جوں کے توں پیش کر دیے گئے ہیں بلکہ عبارت کا اصل لہجہ اور مزاج بھی پوری طرح بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ متن اب اس امر کا انکشاف کرتا ہے کہ اب تک کے غیرشائع شدہ صفحات کے بارے میں بہت مدّت سے جو قیل و قال جاری تھی، وہ پوری طرح حق بجانب تھی۔ جنھوں نے پرانا ایڈیشن پڑھ رکھا ہے انھیں ایسے نکات کا اندازہ فوراً ہو جائے گا جن کے باعث یہ بیانیہ سابقہ بیانیے سے مختلف ٹھہرتا ہے۔

---

مولانا ابو الکلام آزاد (1888ء-1958ء) کا نام پیدائش پر فیروز بخت رکھا گیا، مگر جوانی میں وہ محی الدین احمد کے نام سے جانے گئے اور اُس کے بعد انھوں نے ابو الکلام آزاد کا قلمی نام اختیار کیا۔ آبائی وطن دہلی، مادری وطن مدینہ منورہ، مولد مکّہ مکرّمہ۔ پانچ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ دس برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ کلکتے آئے۔ تعلیم گھر ہی میں ہوئی۔ آزادؔ کے والد مولانا خیرالدین ہر علم میں کوئی مختصر متن حفظ کرا دیتے تھے۔ 1900ء میں فارسی کی تعلیم مکمل کر لی۔ 1903ء میں درسِ نظامیہ سے فارغ ہو گئے۔ گیارہ برس کی عمر میں شعر کہنے لگے۔ پہلی تقریر بارہ برس کی عمر میں کی۔ اکتوبر 1905ء سے مارچ 1906ء تک رسالہ ’’الندوہ‘‘ کے مدیر رہے۔ کچھ مدّت اخبار ’’وکیل‘‘ امرتسر کے ایڈیٹر رہے۔ 13جولائی 1912ء کو کلکتے سے اپنا ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ نکالا۔ پہلی جنگِ عظیم کے متعلّق بعض مضامین کی بنا پر 16 نومبر 1914ء کو ضمانت ضبط ہونے سے ’’الہلال‘‘ بند ہو گیا تو 13 نومبر 1915ء کو ’’البلاغ‘‘ جاری ہوا۔ حکومت نے ’’البلاغ‘‘ اور اُن کا دینی ادارہ ’’دارالارشاد‘‘ ڈیفنس ایکٹ کے تحت بند کر دیا اور مولانا کو رانچی (صوبہ بہار) میں نظر بند کر دیا گیا۔ جنوری 1920ء میں نظربندی سے رہا ہوئے تو ملک میں آزادی اور تحفظِ خلافت کی تحریکیں شروع ہو رہی تھیں۔ اب مولانا نے پُوری توانائی سے عملی سیاست کو اختیار و قبول کر لیا۔ 10دسمبر 1921ء کو گرفتار کر کے اُن پر مقدمہ چلایا گیا اور ایک سال کی قید کی سزا دی گئی۔ اِسی مقدمے میں وہ بیان دیا جو ’’قولِ فیصل‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ دو مرتبہ کانگرس کےصدر بنے۔ 1933ء کے بعد چار مرتبہ قید ہوئے۔ 1947ء میں حکومتِ ہند کے وزیرِ تعلیم بنے اور تاحیات اس عہدے پر فائز رہے۔ 22 فروری 1958ء کو اُن کا انتقال ہوا اور انھیں جامع مسجد دہلی کے باہر، میدان میں دفن کیا گیا۔
زیادہ مشہور تصانیف یہ ہیں: ترجمان القرآن، غبارِ خاطر، انڈیا وِنز فریڈم (اُردو: آزادیٔ ہند)، تذکرہ، قولِ فیصل، اُم الکِتاب، انسانیت موت کے دروازے پر، کاروانِ خیال، حیاتِ سرمد، اصحابِ کہف اور یاجوج ماجوج، البیرونی اور جغرافیۂ عالم، ہجر و وصال۔

---

ہمایوں کبیر (1906ء-1969ء) کلکتہ اور آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک ممتاز تعلیمی کیریئر کے بعد وہ پہلے والٹیئر کے مقام پر آندھرا یونیورسٹی میں، اور پھر کلکتہ یونیورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے 1933ء تا 1945ء کام کرتے رہے۔ 1937ء میں انھیں بنگال لیجسلیٹو کونسل کے لیے کسان پارٹی کے قائد کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ 1946ء میں آزاد نے ان کا انتخاب اپنے سیکریٹری کے طور پر کیا۔ چنانچہ آزاد سے ان کا قریبی تعلق رہا۔ حکومتِ ہند کے مشیرِ تعلیم کی حیثیت سے وہ 1956ء تک کام کرتے رہے، پھر وہ مستعفی ہو گئے اور 1957ء میں وہ کانگریس پارٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے پارلیمینٹ کے لیے چُن لیے گئے۔ انھیں (1957ء-1958ء) وزیر برائے شہری ہوابازی، (1958ء-1963ء) وزیر برائے سائنسی تحقیقات اور ثقافتی امور اور (1963ء تا 1968ء) وزیر برائے پٹرولیم اور کیمیکلز مقرر کیا گیا۔ انگریزی اور بنگلا زبانوں میں وہ بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں جو فلسفے، ادبیات، سیاسیات اور ثقافت کے موضوعات پر سپردِ قلم کی گئیں۔ ان کے دو ناول اور تین شعری مجموعے بھی شائع ہوئے۔

---

شمیم حنفی (17 مئی 1938ء) اُردو کے ایک معروف نقّاد، ڈراما نگار، مترجم اور شاعر ہیں۔ سلطان پور (یو پی) میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی وہیں پر گزاری۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے اُردو اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں ستیش چندردیب، فراق گورکھپوری، سید احتشام حسین اور سید اعجاز حسین ایسے صاحبانِ علم و فضل شامل تھے۔ چھ برس علی گڑھ یونیورسٹی میں تدریس سے متعلق رہنے کے بعد 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہو گئے، جہاں 2003ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک پڑھایا۔ اس کے بعد سے اسی تعلیمی ادارے میں پروفیسر ایمریطس کی حیثیت سے منسلک ہیں۔ شمیم حنفی کاشمار عہدِ حاضر کے اہم ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقید بھی اپنے ہم عصروں سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ ان کے یہاں تنقید لکھنے کا عمل ایک معنی میں وسیع تر تخلیقی سرگرمی سے عبارت ہے۔ فن پاروں کے اسرار تک پہنچ جانے کی جو چند مثالیں اُردو تنقید میں ملتی ہیں ان میں شمیم حنفی کی تحریریں بھی شامل ہیں۔ ایک گہرا وجودی طرزِ فکر و احساس ان کی تحریروں کی شناخت کے طور پر ابھرتا ہے۔ ان کے اُردو تراجم میں زیرِنظر کتاب کے علاوہ ’’قومی یکجہتی اور سیکولرازم‘‘ (ڈاکٹر تارا چند کے خطابات)، ’’یادوں کا اُجالا‘‘ (ڈاکٹر بھگوان سنگھ کی خودنوشت)، ’’شہرِ خُوں آشام‘‘ (معاصر بنگالی زبان کی شاعری)، ’’منتخب تحریریں: جدوجہد کے سال‘‘ (پنڈت جواہر لعل نہرو کی تحریر "Years of Struggle" کا ترجمہ) شامل ہیں۔ شمیم حنفی ایک شاعر، نقّاد، ڈراما نگار اور مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ کئی عملی فنون، مصوّری، کمہار کے فن وغیرہ میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

RELATED BOOKS