GHAZI ILM DIN SHAHEED غازی علم الدین شہید
PKR: 800/- 320/-
Author: ABDUL RASHEED IRAQI
Binding: hardback
Pages: 432
ISBN: 978-969-9396-19-9
Categories: ISLAM HISTORY BIOGRAPHY
Publisher: BOOK CORNER
یہ کتاب برصغیر کی تاریخ اور خصوصاً لاہور کی تاریخ کا ایک ان مٹ باب ہے، اور غازی علم الدین شہید کا نام آج بھی پرانے لوگوں کے دلوں میں روشن ہے۔ اس کا موضوع توہین رسالت کا ایک مقدمہ ہے(نعوذباللہ) اور یہ تاریخ انگریز دور حکومت سے رکھتی ہے۔ اس زمانے میں آریہ سماج اسلام یا مسلمانوں کے خلاف تحریک چلی تھی، جس کا بانی سوامی دیانند سرسوتی تھا۔ اس نے اس تحریک کی بنیاد1878ء کے دوران بمبئی میں رکھی تھی۔ جس کا نعرہ تھا کہ ہندوستان صرف ہندوئوں کے لئے ہے۔ اس تحریک کے پیروکار، مسلم آزار اور اسلام دشمن تحریریں لکھتے تھے۔ جن میں سے ایک راج پال نے 1923ء میں ایک انتہائی شرمناک اور اسلام دشمن کتاب لکھ کر چھپوا دی تھی، جن کے نام ہی میں توہین رسالت شروع ہو جاتی تھی۔ اس کتاب کے خلاف برصغیر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی اور ہندوستان کے کونے کونے میں احتجاج ہونے لگا تھا۔ کتاب کی ضبطی کے ساتھ راج پال ملعون کو سخت سے سخت سزا کا مطالبہ ہونے لگا تھا، اور جب مظاہرے بہت زیادہ شدت اختیار کر گئے، تو اسے گرفتار کر کے 18جنوری 1927ء کو ایک سال چھ ماہ قید بامشقت اور ایک ہزار روپے سزا دی گئی۔ جو مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول تھی۔ یہی نہیں بلکہ 4مئی1927ء کو اسے رہا بھی کر دیا گیا ۔ جس سے مسلمان اور بھی بھڑک اٹھے۔ جگہ جگہ جلسے جلوس ہونے لگے، اور ہندوستان کے کونے کونے میں احتجاج ہونے لگا۔ خاص طور پر لاہور شہر تو جوالامکھی بن گیا تھا۔ مسلمان بے قابو ہوئے جا رہے تھے اور اسی ماحول میں ایک غیرت مند، اِسلام کا شیدا، رسالتﷺ کا پروانہ اور عاشق رسولﷺ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس کا نام علم الدین تھا۔ اس نے اپریل1929ء کو راجپال کی دکان پر جا کر جو انار کلی میں واقع تھی اس گستاخ رسولﷺ کو قتل کر دیا۔ انگریز کا دور تھا۔ اس کو گرفتار کر کے پھانسی کی سزا دی گئی۔ اس مقدمے میں قائداعظم محمدعلی جناح وکالت کے لئے بمبئی سے لاہور آئے تھے۔ یہ میں نے بڑے اختصار سے اس مقدمے کا خلاصہ پیش کیا، اس مقدمے کی تفصیلی رپورٹ اور اس واقعہ کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں معلومات اس کتاب میں موجود ہیں۔ مؤلف نے اپنے موضوع کی صرف متعلقہ مقدمے اور غازی علم الدین شہید تک ہی محدود نہیں رکھا۔ بلکہ اسلام میں توہین رسالتﷺ کی سزا کا تاریخی طور پر جائزہ بھی پیش کیا، اور مختلف ادوار میں پیش آنے والے واقعات بھی پیش کیے ہیں۔ اس کے علاوہ فقہ کے تمام مکاتب فکر کا نقطہ نظر بھی بیان کیاہے جس کی تفصیل تبصرے کی چند سطور میں دینا ممکن نہیں ہے۔ اس کتاب میں اس تاریخی مقدمے کی مکمل کاروائی، گواہوں کے بیانات، اخبارات کے حوالے، مسلم رہنمائوں کے بیانات کے علاوہ برصغیر کے مسلمانوں کے اس دور کے عمومی حالات بھی پیش کئے گئے ہیں۔ کتاب میں دستاویزی حوالے بھی شامل ہیں۔
---
ایک عظیم شخصیت جس نے غلامی کی سیاہ رات میں اپنی قربانی دے کر رسول پاکﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے مردود کو جہنم واصل کر کے، ایک ایسا اجالا کر دیا جس سے سارا عالم منور ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کے صلہ میں مسلمانانِ ہند کو گہری نیند سے جگا دیا اور آخرکار آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ آج دُنیا بھر میں شیطانی قوتیں ناموسِ مصطفیﷺ پر پہلے سے زیادہ شدید حملے کر رہی ہیں، ضرورت ہے کہ قوم کے بچے بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جائے کہ ہم جان دے سکتے ہیں لیکن حضور پرنورﷺ کی شانِ اقدس میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ بُک کارنر نے جہلم جیسے غیرادبی شہر میں علم کی جو شمع روشن کی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ زیادہ روشن ہو رہی ہے۔ یہ کتاب بڑی توجہ سے شائع کی گئی ہے۔
