TAQSEEM-E-HIND تقسیم ہند
PKR: 1,800/- 1,080/-
Author: ABDUL WAHEED KHAN
Binding: hardback
Pages: 304
ISBN: 978-969-662-689-3
Categories: HISTORY PARTITION 1947
Publisher: BOOK CORNER
Author Biography:
عبدالوحید خاں برصغیر کے اُن ممتاز دانشوروں، مؤرخین اور سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تحریکِ پاکستان، برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد اور اسلامی سیاسی فکر پر گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی اور پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ آل انڈیا مسلم لیگ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی حلقوں میں بھی طویل عرصہ فعال کردار ادا کرتے رہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کی صوبائی مسلم لیگوں کی ورکنگ کمیٹیوں کی رکنیت نے انھیں برصغیر کی سیاسی جدوجہد کا براہِ راست مشاہدہ عطا کیا۔ عبدالوحید خاں 1915ء میں ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز وکالت سے کیا۔ ’’مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ اور ’’تاریخِ افکار و سیاسیاتِ اسلامی‘‘ ان کی معروف تصانیف ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں کا گجراتی اور بنگالی سمیت برصغیر کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، جبکہ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں بھی مسلسل شائع ہوتی رہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب India Wins Freedom کے جواب میں عبدالوحید خاں نے 1961ء میں انگریزی زبان میں India Wins Freedom – The Other Sideتصنیف کی، جس میں ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کے واقعات کا ایک مختلف تاریخی زاویۂ نظر پیش کیا گیا۔ اس کتاب کا اُردو ترجمہ ’’تقسیمِ ہند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور زیرِ نظر کتاب اسی اہم تصنیف کی نئی اشاعت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عبدالوحید خاں اپنے خاندان سمیت ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور یہیں سے الیکشن بھی کامیابی سے لڑا۔ وہ صدر ایوب خان کی حکومت میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز رہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی انھوں نے کھل کر مخالفت کی اور بنگلا دیش کے قیام کو اُس وقت کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ انھیں گہرے صدمے سے دوچار کر گیا، جس کے بعد انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا۔
ذاتی طور پر مجھے مولانا آزاد کے علم و فضل سے ہمیشہ عقیدت رہی ہے، جس کو نہ سیاسی طوفان و طلاطم متزلزل کر سکے، نہ شدید اصولی اختلافات اُن کی ’’خمِ زلفِ کمال‘‘ کی اسیری سے چھڑا سکے۔ اضطراب و ہیجان کے اس دَور میں بھی، جبکہ مولانا کا نام آتے ہی مسلمانوں کے ماتھوں پر شکنیں پڑ جاتی تھیں، میں ان کی رنگیں بیانیوں اور فطری لطافتوں سے حظ اٹھاتا رہتا تھا۔ مگر ارادت کیشی کے اِس مضبوط حصار کے باوجود جو میرے تصوّرات نے مرحوم کی ذات کے اِردگرد قائم کر رکھا ہے، جیسے ہی اُن کی کتاب ’’انڈیا وِنز فریڈم‘‘ شائع ہوئی اور وہ ایک سیاسی مورّخ کی حیثیت سے نمودار ہوئے، خودبخود وہ تمام نقوش و خطوط اُجاگر ہو گئے جو اُن کی شکست خوردہ قیادت کے جذبۂ انتقام اور احساسِ کمتری نے اُن کے ذہن و فکر کے گوشوں میں بنائے تھے اور جو اَب تک مدّھم اور پھیکے پڑے ہوئے تھے اور دماغوں سے محو ہوتے جا رہے تھے۔ مولانا کا اشہبِ قلم تاریخِ آزادئ ہند کے میدان میں شہ گام کے لیے نکلا تھا، لیکن ان کے ذہنِ رسا نے ان کی عنان خود اپنی زخم خوردہ انانیت و اِمامت کی شاہراہوں کی طرف پھیر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخِ آزادی کی منزل تو ایک طرف رہ گئی، البتہ اس کو مولانا کے ذہنی و قلبی واردات، اُن کے ذاتی رجحانات اور عقائد، ان کے اپنے افکار و توہمات کی وادیوں میں جولانیوں کا موقع مل گیا۔ (عبدالوحید خاں)
جناب عبد الوحید خاں کی تصنیف ’’ تقسیمِ ہند‘‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ سے متعلق تاریخ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔ انھوں نے مولانا کے فکری تضادات پر سخت گرفت کی ہے اور محققانہ دلائل پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت دیانت داری سے انڈیا ونز فریڈم کے اقتباسات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں اور تصویر کا دوسرا رُخ دکھاتے ہیں۔ انھوں نے تاریخی واقعات کے تناظر میں مولانا ابوالکلام کے یک طرفہ نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے اور نہایت ذمہ داری سے حقائق کی گرہ کشائی کی ہے۔ کانگریس اور انگریزی گٹھ جوڑ کو بھی آشکار کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی انتشار کے باعث نوجوان نسل گمراہ کن تصورات کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ تاریخِ پاکستان کے اکابرین سے متعلق شکوک وشبہات کا خاتمہ کرتا ہے۔ مولانا ابوالکلام نے قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف مسلسل محاذ بنا کر ان کے اخلاص کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتاب پاکستان سے وابستگی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں دھول اڑائی گئی ہے اور عبد الوحید خاں نے آئینے پر جمی گرد کو صاف کر دیا ہے۔ اس کتاب کو ہر لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر سرشار ہو گیا ہوں۔ سادہ اور عام فہم زبان میں تاریخ کا تقابلی مطالعہ نہایت خوش گوار تجربہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ (ڈاکٹر شاہد اشرف)
