Adabi Istilahat - Buy Online | Book Corner

ADABI ISTILAHAT ادبی اصطلاحات

Inside the book
ADABI ISTILAHAT

PKR:   700/- 350/-

Author: DR. HAROON RASHEED TABASSUM
Binding: hardback
Pages: 160
ISBN: 978-969-662-134-8
Categories: URDU LITERATURE LINGUISTICS
Publisher: BOOK CORNER

زبان اظہارِ رائے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے ۔ زبان معاشرتی زندگی کا ایسا نیٹ ورک ہے جو افراد سے قوم بناتا ہے ۔کسی بھی خطے کا استحکام زبان کا مرہون منت ہے ۔ زبان سے علم و ادب کے سربستہ راز منظر عام پر آتے ہیں ۔ ادب کا تاج محل زبان سے تعمیر ہوتا ہے اور اس کی چمک دمک ادبی اصطلاحات سے آتی ہے ۔ ادب، معاشرے سے کشید ہوتا ہے ۔ ساختیات اور پس ساختیات کے دائرے زبان ہی سے مقصدیت کے سانچے میں ڈھلتے ہیں ۔ ڈاکٹر سید محمد عبداللہ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ادب کو عربی میں دستر خوان کہا جاتا ہے ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ادب خاندانی اور ریاستی استحکام کا منبع ہے ۔ ادب زندگی کا قرینہ سکھاتا ہے ۔ ادب آدابِ زندگی کا آئینہ ہے ۔ زندگی کا کوئی بھی ادب معاشرتی تقاضوں کی نمایندگی کے بغیر ادب کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں وہاں کے باشندوں کا تہذیبی شعور پوشیدہ ہوتا ہے ۔ اردو ہماری قومی زبان ہے ۔ اس کی تاریخ ہر چند طویل نہیں لیکن اپنی اہمیت کے اعتبار سے اردو نے دنیا کی کئی دیگر زبانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اردو اپنے دامن میں تراجم کا وسیع خزینہ رکھتی ہے ۔ آج دنیا کی متعدد غیر ملکی کتابوں کے اردو تراجم منظر عام آچکے ہیں ۔ بہت سی قرآنی تفاسیر اردو تراجم کی وجہ سے مقبول عام ہیں ۔ شاعری کے باب میں ریختہ سے اردو غزل تک کا سفرارتقائی منازل طے کر رہا ہے ۔
برعظیم پاک و ہند میں ریختہ سے سفر کرنے والی زبان شاہ جہان کے دور میں اردو تک آپہنچی ۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد انگریز حکمرانوں کے خلاف احتجاج میں اردو زبان نے تیغ و تفنگ کا کردار ادا کیا ۔ فورٹ ولیم کالج میں ولیم جون گل کرائسٹ کی کاوشیں انگریزوں کے بجائے مسلمانوں کے کام آئیں ۔ ۱۴ /اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض و جود میں آگیا ۔ اہل ادب یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ تحریک پاکستان میں اسلام کے بعد اردو نے ایک نعرے کا انداز اختیار کیا ۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اردو زبان ہمارے قومی کلچر کی نشانی ہے ۔ تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان میں عربی اور فارسی زبانوں کی چاشنی ہمیشہ سے محسوس کی جاتی ہے ۔ مختلف زبانوں نے اردو کے حُسن معانی کو تقویت عطا کی ۔ علم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے ۔ تمام علوم تنقید کے عطر سے معطر ہوتے ہیں ۔ تنقید خوب سے خوب تر کی راہ ہموار کرتی ہے ۔ اردو زبان نے بھی اپنی شناخت ایسی ہی خوشبو سے کروائی ہے ۔
زندگی قید ہے حالات کی دیواروں میں
وقت نے کھینچ دیے دائرے پر کار کے ساتھ
اردو زبان نے اردو ادب کو ایسا سائبان عطا کیا کہ ادب حالات کی دیواروں سے دائرہ در دائرہ پھیلنے لگا ۔دُنیا کا کوئی ادب اپنی زبان کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ادب کا فلسفہ ، ثقافت ، تہذیب ، نفسیات ، سیاسیات ، سماجیات ، اخلاقیات ، مدنیات ، دینیات اور لسانیات کسی نہ کسی طور اپنی اصطلاحات سے راستہ ہموار کرتا ہے ۔ اردو ادب کی تفہیم و ترویج کے لیے اساتذہ ٔ لسانیات نے عرق ریزی سے چند ادبی اصطلاحات تحقیق کے بعدرائج کی ہیں ۔
جس طرح زندگی ایک نقطے مرکوز نہیں، اسی طرح زبان و بیان کے قواعد و ضوابط میں بھی تبدیلیوں کا رونما ہونا فطری عمل ہے ۔ مثلاً لغات میں ایک لفظ کے کئی کئی معانی ملتے ہیں ۔ لغوی معانی اور لفظی معنوں کا استعمال زبان کو وسعت عطا کرتا ہے ۔ پہلے Window کو صرف کھڑکی کے معنوں میں لیا جاتا تھا لیکن اب کمپیوٹر کے حوالے سے اس لفظ کا زیادہ استعمال ہو رہا ہے ۔ ماؤس کے معانی چوہے کے ہیں لیکن آج کل یہ کمپیوٹر کی شناخت ہے ۔ ماضی میں کسی بُری شخصیت کے لیے کرپٹ لفظ استعمال کیا جاتا تھا لیکن آج ونڈ کرپٹ ، یو ایس بی کرپٹ ، سی ڈی کرپٹ ایسی اصطلاحیں پھیل رہی ہیں ۔ اب زبانوں کا امتزاج بڑھتا جا رہا ہے ۔ امتزاجی تنقید نے تبدیلی کے عمل کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے ۔ اردو زبان کی لاتعداد ادبی اصطلاحات آج ادب کے طالب علموں کے لیے عمیق نظری کا سامان بہم پہنچا رہی ہیں ۔
مغربی علوم اور یونانی فلسفہ سے بہت سا مواد حاصل کر کے اردو ادب کی اصطلاحات کو متعارف کروایا ہے ۔ یہ ادبی اصطلاحات ، پاکستانی ادب کے فروغ کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ادبی اصطلاحات کے ضمن میں بہت سے محققین کی محنت شاقہ منظر عام پر آچکی ہے ۔ ہر محقق اپنا زاویۂ نظر اور تجربہ رکھتا ہے ۔ علم ، تعلیم ، ادب ، زبان ایک نقطہ پر مرکوز نہیں رہتے تغیر و تبدل زمانے کا خا ص چلن ہے ۔ ثبات زندگی اسی تغیر کی وجہ سے ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ادبی اصطلاحات‘‘ ادب کا ارتقائی سفر ہے ۔
یہ کتاب قواعد و اِنشا سیکھنے والے طالب علموں کے لیے رہنمائی کا باعث ہوگی ۔ تمام جماعتوں کے طالب علم اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔ نوآموز محققین ، ایم اے ، ایم فِل اور پی ایچ ڈی اُردو کے سکالرز ،زبان خوانی اور تحریری مواد کی تشکیل کے لیے اس کتاب کو حرزِ جاں سمجھ سکتے ہیں۔ تحقیق و تنقید میں کوئی تحریر حتمی نہیں ہوتی ۔ مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے ۔ توقع رکھتا ہوں کہ ناقدین کتاب کو ادبی دہشت گردی کا شکار نہیں ہونے دیں گے ۔

پر وفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

RELATED BOOKS