Asnaf e Urdu - Buy Online | Book Corner

ASNAF E URDU اصناف اردو

Inside the book
ASNAF E URDU

PKR:   700/- 350/-

Author: DR. HAROON RASHEED TABASSUM
Binding: hardback
Pages: 200
ISBN: 978-969-662-133-1
Categories: URDU LITERATURE LINGUISTICS
Publisher: BOOK CORNER

ادب زندگی کی عکاسی کرتا ہے ۔زندگی کا سفر آفرینش سے ارتقائی منازل طے کر رہا ہے جس طرح معاشرتی زندگی اپنے پیچ و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے، اسی طرح ادبی رجحانات تغیر و تبدل کا شکار رہتے ہیں ۔ انسان کی شناخت معاشرے سے ہوتی ہے ۔ معاشرہ اور ادب لازم و ملزوم ہیں ۔اگر تخلیق کار معاشرتی رویوں کی تبدیلی کا باعث بنتا ہے تو اس کا ماحول بھی اس کے شعور کو یقینا متاثر کرتا ہے ۔ ہر علم ، تعلیمی نظام اور ادب اپنے اظہار کے لیے مخصوص زبان رکھتے ہیں ۔ اس زبان کے زیر اثر اس کے کچھ شعبہ جات منظر عام پر ضرور آجا تے ہیں ۔
اردو زبان کی تاریخ زیادہ طویل نہیں ہے لیکن اس نے سب سے پہلے برعظیم پاک و ہند کے باشندوں کی زندگی پر اثرات مرتب کیے ، رسم و رواج کو متاثر کیا حتیٰ کہ اخلاقیات و نفسیات میں تبدیلی کا باعث بھی بنی ۔
اردو کے آغاز میں ادب صرف شاعری یا نثر لفظوں سے پہچانا جاتا تھا ۔ زمانے کی رفتار کے ساتھ ادب نے بھی سبک رفتاری اختیار کی ۔ زمان و مکاں کی حدود وقیود میں ادب کسی نہ کسی طور اپنی جگہ بناتا رہا ۔ ادب کے حسن معانی میں لفظ’’ دسترخوان ‘‘ مقبول عام رہا ۔ انسان کا وجود ادب کے بغیر کسی طرح برقرار نہیں رہ سکتا ۔ دسترخوان بھی ادب کا قرینہ ہے ۔ انسان اور ادب شانہ بشانہ سفر کرتے ہیں ۔ تخلیق کار درحقیقت زندگی کی تفہیم کا دوسرا نام ہے ۔ ادب کے نکھار میں تنقید نے عمیق نظر ی کا مظاہرہ کیا ہے ۔نقاد تخلیق کاروں کی صلاحیتوں کی گتھیاں سلجھاتا ہے ۔ اردو نثر اور شاعری کے دائرے پھیلتے گئے ۔ آج اکیسویں صدی میں جہاں سائنسی ایجادات نے زندگی کے تجربات کو پھیلا دیا ہے وہاں ادب کے پَر پُرزے بھی پھڑ پھڑانے لگے ہیں ۔جس طرح ایک مشینری کے بعد دوسری مشینری سامنے آنے لگی ہے اسی طرح ادب میں نثر اور شاعری نئی اضافتوں اور اصناف کے حوالے سے نظر آنے لگی ہیں ۔ زندگی ایک صحبت عمل ہے ۔ بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور پھر بڑھاپا ایک صحبت دوسری صحبت کو ٹوٹ پھوٹ میں بدل دیتی ہے اسی طرح اصناف ادب نے نثری اصناف اور شعری اصناف کے سانچے بنا کر تفہیم کے راستے ہموار کر لیے ہیں ۔
یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ادب زندگی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی دور میں داستان کو بڑی اہمیت تھی۔ پھر آہستہ آہستہ داستان کی کوکھ سے ناول اور افسانے نے جنم لیا ۔آج مختصر افسانہ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ۔ اسی طرح پہلے قصیدہ لکھا گیا۔ پھر اس کی پسلی سے غزل ِپیدا ہوئی تو قصیدے کا وجود منہدم ہونے لگے اور اس کی جگہ غزل نے لے لی ۔ پہلے مضمون کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ پھر اسی مضمون سے ادبی مضمون ، تنقیدی مضمون ، فلسفیانہ مضمون، مزاحیہ مضمون سامنے آتے چلے گئے ۔ انہی مضامین کے بطن سے انشائیہ نے جنم لیا اور سب سے الگ شناخت قائم کر لی ۔زمانے کی ترویج و ترقی کے ساتھ ادب نے بھی ہر میدان میں ترقی کی ہے ۔ جوں جوں زمانہ ترقی کی نردبان طے کرتا ہے نقاد کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ۔ وہ نہ صرف زمانے کے تقاضوں پر عمیق نگاہ رکھتا ہے بل کہ تخلیق ہونے والے ادب کو بھی بڑی گہرائی سے دیکھتا ہے ۔ مختلف اصناف ادب کا خیر مقدم کرتا ہے بل کہ ان کو مختلف نام بھی دے کر انھیں ادب کے دائر ے میں لے آتا ہے ۔ نقاد اصناف ادب کے ساتھ ساتھ ادب میں ہونے والی تنقید اور جدید تھیوریز پر بھی گہری نظر رکھتا ہے ۔ وہ قاری اور تخلیق کار کے درمیان ایک پُل کا کام کر رہا ہوتا ہے ۔
اگر ہم صرف شاعری پر بحث کریں تو یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ شاعری کی زمین فرد کو ہی نہیں اصناف کو بھی بدل دیتی ہے ۔ شاعر کسی ایک صنف کی پٹڑی پر برسر عمل ہوتا ہے لیکن تخلیقی سگنل سے وہ کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے ۔ نظم کے ضمن میں یہ تجربہ بہت وسیع ہو چکا ہے ۔ جس طرح زندگی کی تعمیرات میں حُسن و جمال بڑھتا جا رہا ہے۔بعض زمینوں پر گہری کھدائی سے کہیں تیل نکل آتا ہے تو کہیں گیس کا ذخیرہ ہاتھ لگ جاتا ہے ۔ اسی طرح نظم کی کھدائی جاری ہے اور اس کی تہہ در تہہ سے تبدیلیوں کا عمل سامنے آرہا ہے ۔ پابند نظم سے نظم معریٰ ، آزاد نظم اور پھر نثری نظم وجود میں آچکی ہیں ۔ ہیئت کے نت نئے تجربات کا سلسلہ بھی کسی مرکز پر رُکا نہیں ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ اصناف خلا میں پیدا نہیں ہوتیں ۔نظریۂ ضرورت کے تحت اصناف معرض و جود میں آتی ہیں ۔ اردو نثر اور شاعری کی اصناف پر بہت سی کتابیں طالب علموں کے زیر مطالعہ آچکی ہیں ۔ ہر مؤلف کا اپنا زاویۂ نظر ہے ۔ اصناف اردوادب پر بہت سی کتابیں دودھ کے پیالے کی مانند ہیں۔ان میں زیر مطالعہ کتاب ’’اصنافِ اُردو‘‘ اس دودھ کے پیالے میںایک گلاب رکھنے کے مترادف ہے تاکہ اس دودھ کی خوشبو سے منفرد اضافہ محسوس ہو ۔ مجھے امید ہے کہ سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طالب علم اس کتاب سے بھرپور استفادہ کرسکیں گے ۔کوئی بات یا کوئی تحریر حتمی نہیں ہوتی ،اس کی بہتر ی کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ۔قارئین کی آراء اور ناقدین کے مثبت تبصروں سے اس کتاب کا نیا ایڈیشن بہتر انداز میں سامنے آسکے گا ۔
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

RELATED BOOKS