CAIRO TRILOGY: BAYN AL-QASRAYN, QASR AL-SHAWQ, AL-SUKKARIYYA | URDU | 3 VOLUMES | BOX SET قاہرہ ٹرائلوجی: بین القصرین، قصر الشوق، السکریۃ | اردو | تین جلدیں
PKR: 6,000/- 4,200/-
Author: NAGUIB MAHFOUZ
Translator: YAQOOB YAWAR
Binding: hardback
Pages: 1176
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-684-8
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL ARABIC LITERATURE WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS NOBEL WINNERS
Publisher: BOOK CORNER
عربی ناول نگاری کی تاریخ میں نجیب محفوظ کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کے بڑے ادیب اور بیسویں صدی کے عربی فکشن کے معمار کہے جاتے ہیں۔ ان کا مشہور کارنامہ ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ (Cairo Trilogy) ہے جس میں تین لازوال ناول شامل ہیں:
بین القصرین: یہ ناول ایک خاندان کی کہانی ہی نہیں، قاہرہ کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اس میں پہلی جنگِ عظیم (1914ء تا 1918ء) کا مصر، عوامی اضطراب اور برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی آہٹیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بین القصرین‘‘ نہ صرف نجیب محفوظ کے فن کا نقطۂ عروج ہے، بلکہ عربی ناول کی تاریخ کا ایک عظیم موڑ بھی ہے۔ اس ناول نے عربی ادب کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا اور عرب معاشرت کےپیچیدہ حقائق کو فکشن کی زبان میں لازوال کر دیا۔
قصر الشوق: یہ دوسرا ناول ہے جو پہلے ناول کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں کہانی نئی نسل میں منتقل ہو جاتی ہے، جس میںقاری مصر کی بدلتی ہوئی سیاسی و سماجی فضا سے دوچار ہوتا ہے۔ اگر ’’بین القصرین‘‘ میں پہلی جنگِ عظیم کے بعد کے حالات اور تحریکِ آزادی کا اثر ہے، تو ’’قصر الشوق‘‘ میں ہم بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے مصر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں آزادی کے خواب، جدیدیت کی لہر اور روایتی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ نجیب محفوظ نے اس ناول میں نہ صرف قاہرہ کے گلی کوچوں کوحیاتِ جاودانی بخش دی ہے، بلکہ انسانی روح کی بےچینی اور تلاش کو بھی لازوال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’قصرالشوق‘‘ آج بھی نہ صرف عربی ادب کا اہم حوالہ ہے بلکہ یہ عالمی ادب میں بھی بلند مقام کا حامل ہے۔
السکریہ: یہ اس سلسلے کا تیسرا اور اختتامی ناول ہے، جو پہلی بار 1957ء میں شائع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مصر میں بادشاہت کے خاتمے اور فوجی انقلاب (1952ء) کے بعد ایک نئی سیاسی فضا جنم لے چکی تھی۔ ’’السکریۃ‘‘ دراصل اسی تبدیلی کے بطن میں ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو زمانے کے تغیّرات کے ساتھ اپنے اقدار، نظریات اور وجود کے معنی تلاش کرتا ہے۔ محفوظ نے اس ناول میں ماضی اور حال کے تصادم، روایت اور جدیدیت کی کشمکش، اور فرد کی داخلی تنہائی کو ایسی فنی مہارت سے پیش کیا ہے کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ پورے مصر کی اجتماعی روح کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں سے نہیں بنتی، بلکہ ان گھروں، گلیوں اور چہروں سے بھی بنتی ہے جہاں انسان اپنے روزمرہ کے دکھوں اور سوالوں کے ساتھ جیتا ہے۔
---
نجیب محفوظ (11 دسمبر 1911 — 30 اگست 2006) قاہرہ میں پیدا ہوئے اور سترہ برس کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اُس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انھیں 1988 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ عرب دنیا میں چھے شخصیات کو انفرادی حیثیت میں نوبیل انعام دیا گیا، جس میں ادب کا واحد نوبیل انعام ان کے حصے میں آیا تھا۔ اس موقع پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا، ’’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبیل انعام ضرور دیا جائے گا، لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘
پچاس کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اِسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’’قاہرہ ٹرائلوجی‘‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ ’’بین القصرین‘‘، دوسرا حصہ ’’قصر الشوق‘‘ اور تیسرا حصہ ’’السكريۃ‘‘۔ معاصر ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین نے اس ٹرائلوجی کے بارے میں کہا، ’’اس نے افسانوی ادب کو اس درجۂ کمال، حُسن، گہرائی، باریکی اور جادوئی تاثیر عطا کی ہے جس تک اس سے پہلے کوئی مصری ادیب نہیں پہنچ سکا تھا۔‘‘ اس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا، ’’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا۔‘‘ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔
لیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب ’’الاہرام‘‘ نے ان کا ناول ’’جبلاوی کے بیٹے‘‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا، جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اُس وقت تک صدر جمال عبد الناصر بن چکے تھے، سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔
نجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انھوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے، اور اسی بنا پر کچھ لوگ انھیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنّفین میں شمار کرتے ہیں۔
انھوں نے تقریباً ستر برس کے ادبی سفر میں 35 ناول، 350 سے زائد کہانیاں، 26 فلمی سکرپٹ، مصری اخبارات کے لیے سیکڑوں کالم اور سات ڈرامے تحریر کیے۔ ان کی بہت سی تحریروں کو مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھالا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی، جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں۔
