Prem Pujaran aur Mard-e-Inqilab

PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB پریم پجارن اور مرد انقلاب

PREM PUJARAN AUR MARD-E-INQILAB

PKR:   2,000/- 1,400/-

Author: QUDDUS SEHBAI
Binding: hardback
Pages: 310
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-702-9
Categories: SHORT STORIES NOVEL TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

میرا نام قدوس صہبائی ہے۔ میں 1910ء میں ایک فوجی خاندان میں پیدا ہوا جو قندھار (افغانستان) سے ہندوستان آیا تھا۔ پہلے 20 سال دین اور قرآن کی تعلیم حاصل کی کیوں کہ زبردستی کرائی گئی تو میں باغی ہو گیا اور فوج میں افسر بننے کی بجائے انگریز فوج کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اشتراکی نظریہ اپنا لیا۔ لکھنا پڑھنا شروع کر دیا اور صحافی، ادیب اور سیاست دان بن گیا۔ 25-24 سال کی عمر میں اخباروں اور جریدوں کا ایڈیٹر بن گیا۔ سیاست شروع کر دی اور کئی دفعہ جیل گیا۔ جیل میں 10- 12 افسانوں کی کتابیں لکھیں۔ بےشمار مضمون لکھے۔ پورا ہندوستان گھومتا رہا۔ جوانی کے شوق پورے کیے۔ عشق کیا، شادیاں کیں، در بدر کی نوکری کی اور پاکستان آ گیا اور اخباروں اور کتابوں کے درمیان عمر گزار دی۔ کئی دوست بنائے جو مجھ سے بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ سب اچھے اور سچے لوگ تھے۔ سعادت حسن منٹو کے اصرار پر اپنی سرگزشت لکھی جو ’’میری رانی میری کہانی‘‘ کے عنوان سے چَھپ گئی۔ 1985ء میں پانچ بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر اس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔

قدوس صہبائی اُردو ادب کی مشہور شخصیت ہیں اور ترقی پسند فن کاروں کی صف میں اپنی انقلابی ذکاوت، ترقی پسندانہ رجحان اور پسندیدہ ادبی وافسانوی صلاحیت کے اعتبار سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے قلم میں بلا کا زور اور فکر میں غضب کی جدت ہے اور آپ زندگی کے مسائل کو صداقت وخلوص کے رنگ میں اس طرح ادب کے اندر سموتے ہیں کہ آپ کی ہر ادبی تخلیق براہ راست دلوں اور دماغوں کو اپیل کرتی ہے۔ اس مجموعے میں جناب قدوس صہبائی نے اپنے فن کو ایک خاص اسلوب وانداز سے پیش کیا ہے، یہ مجموعہ ایسے ایسے چھوٹے افسانوی ادب پاروں پر مشتمل ہے جن میں آسکر وائلڈ کا تخیل اور ادبی جدت، نئے فن کاروں کی صداقت احساس، روسی ادب کا طنز اور فرانسیسی اہلِ قلم کا رومانی طرزِ نگارش پوری قوت سے موجود ہے۔ قدوس صاحب نے زندگی کے بے شمار مسائل اور ان گنت موضوعات کو کامیاب ترین اختصار کے ساتھ (جو ابہام واجمال سے پاک ہے) پیش کیا ہے۔ بے شمار دلچسپ افسانے، اس مجموعہ کے اوراق و صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ ان افسانوں کی تکنیک قدوس صاحب کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور اردو ادب میں ایک خاص سٹائل کی بنیاد ڈال رہی ہے۔ قاتل محبت، ساتھی، آنے والا زمانہ، حقیقت یا افسانہ، بے چارے، تانہ بخشد خدائے بخشندہ، فطرت، خوش نصیبی، غرض یہ ہے کہ بے شمار موضوعات ہیں اور ہر موضوع پر قدوس صہبائی کے قلم نے اپنی جادونگاری، فلسفیانہ افتاد طبع، عمیق مطالعہ اورزندگی کے ساتھ اپنے گہرے شغف اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ (واقف صدیقی)

RELATED BOOKS