UMR BHAR KI BAAT عمر بھر کی بات
PKR: 1,999/- 1,399/-
Author: SAIMA AFTAB
Binding: hardback
Pages: 232
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-652-7
Categories: POETRY
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 27 January 2026
صائمہ کی امیجری سرسبز اور ہری بھری ہے۔ اس نے علامتیں اپنی زمین اپنی مٹی کی لی ہیں۔ اس کی شاعری میں رنگ کہیں دھانی ہیں، کہیں ہرے، کہیں قرمزی اور کہیں ارغوانی! اُس نے ساون بھادوں کے بادل شاعری میں خوب بھرے۔ یہاں تک کہ آنکھیں ان بادلوں کے مس سے گیلی ہو گئیں۔ اُ س کی لفظیات گہرے ناسٹیلجیا کی آئینہ دار ہیں۔ تتلی، بچپن، کاغذ کی ناؤ، پیپل، چاند کا گولا، پیا ملن، گھنگرو، گھور اندھیرا، چولہے، مٹکے، پائل، انگارہ اور اسی طرح کی کئی اور! بعض اشعار پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اس نے علامتوں کو ایک نسبت، ایک تناسب سے برتا ہے۔ ایک نظام آراستہ کیا ہے۔ منطق کو بھی اپنایا ہے اور حسنِ ترتیب کو بھی!
(محمد اظہار الحق)
اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جن شاعرات کو ادبی دُنیا میں سراہا گیا، ان میں سب سے مضبوط آواز صائمہ آفتاب کی ہے ۔ ان کے ہاں تازہ کاری اور تخلیقی زرخیزی ایک تسلسل کے ساتھ ہمیں دکھائی دیتی ہے ۔ غزل کا سب سے مشکل کام ’کیا کہنے‘ سے زیادہ ’کیا نہیں کہنا‘ اور کہنا ہے تو اس کے لیے کیا سلیقہ درکار ہو گا۔ ہم عصر ادبی منظرنامے پر کئی نسائی لہجے ایسے ہیں جن کو سُن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ نہ کہنے والی بات ایسے انداز سے کہی جاتی ہے کہ شاعری نعرے بازی بن جاتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد نسائی شاعری میں آزادیٔ نسواں اور آزادیٔ اظہار کے نام پر بہت سی شاعرات نے نہ کہنے والی باتیں کُھل کر کہیں، لیکن صائمہ آفتاب کو ربّ نے یہ توفیق ارزانی کی ہے کہ ذات کے بحران سے جنم لینے والی اَن کہی باتیں اس سلیقے سے کہہ دینی ہیں کہ وہ ایک بڑی شاعرہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نئی شاعرات میں رول ماڈل کے طور پر اپنا مقام بنا چکی ہیں۔ میں اُن کے شعری مجموعے کی مقبولیت اور قبولیت کے لیے دُعاگو ہوں۔
(عباس تابش)
صائمہ آفتاب کو قدرت کی طرف سے مشاہدۂ حق پرمامور ایسا قلم عطا ہوا ہے جو محض نظارہ بینی ہی نہیں نظارہ سازی پر بھی قادر ہے۔ اُن کی یہ صلاحیت معاشرے میں اُنھیں انفرادی اور اجتماعی اقدار کا امین بنا کر پیش کرتی ہے۔
صائمہ آفتاب نے اپنے عملِ تخلیق سے ثابت کیا ہے کہ اُن کے سوالوں کا جواب کسی صاحبِ دستار کے پاس نہیں بلکہ معمورۂ عالم میں خَلقت اور خِلقت کی ناز بردار ایک ایسی عورت کے پاس ہے زمانہ جسے سردار عورت کے نام سے جانتا ہے۔ یہ وہ سردار عورت ہے جس کے پاس گرفت، سرزنش اور احتساب کا اختیار بھی ہے اور مسئلے کا حل بھی!
اُن کی شاعری میں تصورِخاندان، سماجی ربط و تعلق اور خونی رشتوں کی قدر جیسے معاملات کا اظہار بکثرت ملتا ہے۔ باہمی تعلقات اور جذباتی وابستگی کی اِن صورتوں کو پائیدار تخلیقی تجربے میں پیش کرنا آسان نہیں۔ شعر اور غیرِشعر کو جس پل صراط سے بھی ممتاز یا الگ کیا جا تا ہے وہ ناقابلِ اعتبار بھی ہے اور بے لحاظ بھی۔
صائمہ آفتاب کی بعض نظموں میں بھی انسان شناسی اور انسانی اقدار کے تحفظ کی مختلف صورتوں کا اظہار ہوا ہے۔ اِس ضمن میں اُن کی نظمیں ’جنم دن‘، ’ستارہ بچے‘، ’یہ میرا لاڈلا بچہ‘ اور ’گڑیا‘ قابلِ ذکر ہیں۔ یہی وہ ’جنم دن‘ ہے جو آدم سے ابن ہر آدم تک ایک ہی طور سے ظاہر ہوتا ہے اور نوک قلم کی ایک ہی جنبش سے زندگی اورانسان کے باہمی ربط و تعلق و تسلسل عطا کرتا اور سوال اٹھاتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
(شاہین عباس)
خوب صورت، پُر سوچ آنکھوں، دھیمے اضطراب اور ہلکے سنہری لہجے میں باتیں کرتی، گلابی شعر سناتی ہوئی عورت خاموش بھی ہو جاتی ہے، تب بھی اس کے ان کہے سوالوں کے جگنو دائرہ در دائرہ کہیں آس پاس ہی جلتے بجھتے محسوس ہوتے ہیں۔
صائمہ آفتاب کے ہاں بھی اس کے وجود سے جھلکتا یہی ان کہی کا حسن اس کی شاعرانہ حیثیت کو تسلیم کروانے لگتا ہے کہ شاعری تو ہے ہی بھید بھری چپ کی داستان۔ اور جب مشرق کی عورت اسے تخلیق کرنے کی سزا وار ٹھہرتی ہے تو اس کے بدن سے روح تک جیسے زرنگار، ریشم کی زنجیریں اپنا حصار بننے لگتی ہیں۔ پھر باطن میں بھڑکتا عشق کا الاؤ دھیرے دھیرے عمر بھر کی سلگن میں بدل کر رہ جاتا ہے۔ یہی ہڈیوں کا بالن کرتی کیفیت ہی تو ہے جو حرف کو لفظ اور لفظ کو شعر کرنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔
قدرت کی طرف اسے ودیعت کردہ اظہار کی طاقت پر قادر عورت کے اندر جبر کی روایت سے بغاوت پوری سرکشی سے ساتھ ہمکتی رہتی ہے۔ ان میں سے چند بہادر ہیں جو اپنے پورے سچ کے لیے کشور ناہید کی طرح ہمیشہ سر بہ کف رہنے کی ہمت رکھتی ہیں۔ اور چند ملائم حوصلہ کہ جو رفتہ رفتہ نرم گرم سمجھوتوں کی ستاروں بھری شال اوڑھ کر ادھورا سچ بولنا سیکھ لیتی ہیں اور پھر اپنی ذات سے کائنات تک نفی و اثبات کا لامتناہی سفر شروع ہو جاتا ہے، جس میں کہیں شب دریدہ تو صبحِ شکستہ، کہیں شام روشن تو دن ہے شکستہ۔ صائمہ آفتاب ان تجربات کو اپنی شاعری میں پرو تی نظر آتی ہیں۔
(نوشی گیلانی)
