Faqeer Basti Mei Tha (3rd Edition) | Book Corner Showroom Jhelum Online Books Pakistan

FAQEER BASTI MEI THA (3RD EDITION) فقیر بستی میں تھا

Inside the book
FAQEER BASTI MEI THA (3RD EDITION)

PKR:   999/- 500/-

Author: ALI AKBAR NATIQ
Pages: 288
ISBN: 978-969-662-302-1
Categories: BIOGRAPHY URDU LITERATURE
Publisher: Book Corner

محمد حسین آزاد کی کہانی میری زبانی

مَیں دسویں جماعت میں تھا، اپنے گائوں میں رہتا تھا۔ گھر کے سامنے ایک پانی کا نالہ بہتا تھا اور نالے پر ٹاہلیوں کے بےشمار چھائوں بھرے درخت تھے۔ اُن کے نیچے بان کی چارپائی بچھا کر اکثر کتابیں پڑھتا تھا۔ ایک دن میرے ہاتھ ڈاکٹر سیّد عبداللہ کی کتاب’’ مباحث‘‘ آ گئی۔ مختلف مضامین کی دلچسپ کتاب تھی۔ اُسی میں ایک مضمون ’’مَیں اور میرؔ‘‘ بھی تھا۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ نے مولوی محمد حسین آزاد پر جرح کی تھی کہ اُس نے ’’ آبِ حیات‘‘ میں میرؔ صاحب کے کردار کو متنازع بنا ڈالا۔ میرؔ کو مبالغہ کی حد تک خودپسند ثابت کیا۔ مجھے اِس مضمون میں دیے گئے دلائل بہت عجیب اور متضاد لگے۔ مضمون پڑھ کر اُلٹا مَیں آزاد کے لیے تڑپ اُٹھا۔ جلد مولوی آزاد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کو ڈھونڈنے نکلا۔ اوکاڑہ شہر میں کسی دُکان پر ’’آبِ حیات‘‘ نہیں تھی۔ اُسی دن ریلوے اسٹیشن پر آیا، ایک بجے کی ریل پر بیٹھا اور لاہور پہنچ گیا۔ اُردو بازار لاہور سے ’’آبِ حیات‘‘ خریدی اور شام کی ٹرین سے اپنے شہر نکل لیا۔ راستے میں کتاب کا بے صبری سے مطالعہ شروع کر دیا۔ پھر بہت عرصہ یہ کتاب میری حرزِجان رہی اور مَیں مولانا کا عاشق ہو گیا۔ پھر جہاں سے جو کچھ بھی آزاد کے حوالے سے ملا، پڑھ ڈالا۔ لاہور میں آزاد کے ٹھکانوں کو تلاش کیا۔ جب دہلی گیا تو وہاں بھی آزاد کے پُرانے گھر اور کھجور والی مسجد کو ڈھونڈا۔ آزاد کے رشتے داروں کو ڈھونڈا۔ اُن میں ایک آغا سلمان باقر ملے، اُنھوں نے مجھے آزاد کے متعلق بہت مالا مال کر دیا، خدا اُنھیں سلامت رکھے۔ حتیٰ کہ آزاد کے بارے میں میری معلومات دہلی، لکھنؤ، لاہور اور دیگر مقامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہو گئیں۔ بعض معلومات اتنی دلچسپ، بالکل نئی اور ہمہ رنگ تھیں کہ پہلے تحریر میں نہیں آئی تھیں اور مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب دستِ غیبی ہے۔ قدرت چاہتی ہے کہ یہ اُن قارئین تک پہنچایا جائے جو اُردو ادب اور مولانا محمد حسین آزاد سے محبّت کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک وقت آیا کہ میں نے آزاد پر قلم اٹھایا اور یہ کتاب ’’فقیر بستی میں تھا‘‘ وجود میں آئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اِس کتاب کے سرورق کے عنوان سے لے کر ابواب کے تمام عنوانات تک اُسی میرؔ کے مصرعوں سے لیے گئے ہیں۔ وہی میرؔ جس کے متعلّق سیّد عبداللہ کا اپنے مضمون میں دعویٰ تھا کہ اُس کے ساتھ مولوی آزاد نے انصاف نہیں کیا۔ لیکن مَیں کہوں گا کہ بخدا خود قاضی عبدالودود سے لے کر سیّد عبد اللہ اور وہاں سے آج تک کے تمام نقّادوں نے مولوی آزاد کے ساتھ انصاف نہیں کیا جنھیں مَیں نے اِس کتاب میں ظاہر کیا ہے۔ چلیے اب آپ اِس کتاب کو پڑھیے!!

علی اکبر ناطق

RELATED BOOKS