IQBAL AUR MAGHRABI MUFAKAREEN اقبال اور مغربی مفکرین
IQBAL AUR MAGHRABI MUFAKAREEN اقبال اور مغربی مفکرین
PKR: 950/- 475/-
Author: JAGAN NATH AZAD
Binding: hardback
Pages: 304
ISBN: 978-969-662-062-4
Categories: PHILOSOPHY IQBALIYAT
Publisher: BOOK CORNER
حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا تیسرا فارسی شعری مجموعہ’پیامِ مشرق‘ مئی 1923ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب پہلی جنگِ عظیم (1914-1919ء) کی تباہ کاریوں کے بعد منظر عام پر آئی۔ علامہ اقبال پیامِ مشرق کے دیباچہ میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’خالص ادبی اعتبارسے دیکھیں تو جنگ عظیم کی کوفت کے بعد یورپ کے قوائے حیات کا اضمحلال ایک صحیح اور پختہ ادبی نصب العین کی نشوونما کے لیے نامساعد ہے۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ اقوام کی طبائع پر وہ فرسودہ‘ سست رگ اور زندگی کی دشواریوں سے گریز کرنے والی عجمیت غالب نہ آجائے جو جذباتِ قلب کو افکارِ دماغ سے متمیز نہیں کر سکتی‘‘۔ پیامِ مشرق کے ایک حصے کا نام ’نقشِ فرنگ‘ ہے جس میںاکثر نظموں کے عنوان یورپی مفکرین اور فلاسفروں کے ناموں پر ہیں۔جن میں اقبال نے خوبصورت انداز میں مغرب کو ہی مخاطب کیا ہے اس لیے مغرب اور اس کے دانشوروں کے متعلق اقبال کا نقطہ نظر جاننے میں پیامِ مشرق کا یہ حصہ سب سے زیادہ رہنمائی کرتا ہے۔
حال ہی میں دسمبر 2016ء میں جہلم سے بُک کارنر نے جگن ناتھ آزاد کی ایک کتاب ’’اقبال اور مغربی مفکرین‘‘ کی اشاعت کی ہے۔ اس کتاب کی بارِ اوّل 1975ء میں ہندوستان میں ہوئی تھی۔ پاکستان میں اس تصنیف کی اشاعت کا سہرا بُک کارنر‘ جہلم کے سر سجا ہے۔ اس کتاب میں جگن ناتھ آزاد نے اقبال کے ساتھ جن مغربی مفکرین کا ذکر کیا ہے اُن میں فشٹے‘ شوپن ہار‘ کارل مارکس‘ نطشے‘ برگساں‘ دانتے‘ ملٹن‘ گوئٹے اور آئن سٹائن شامل ہیں۔ پیامِ مشرق کے حصہ نقشِ فرنگ کی ایک طرح سے شرح آزاد صاحب نے اس کتاب میں تقابلی‘ تنقیدی اور تحقیقی انداز سے کی ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف ہمیں اقبال کی مغربی مفکرین کے بارے میں فکر کا پتہ چلتا ہے بلکہ یورپی مفکرین اور فلاسفروں کے نظریات سے بھی آشنائی ہوتی ہے۔
فکرِ اقبال کے اہم موضوعات اور تصورات خودی ‘ عمل‘ عقل و عشق‘ فن‘ خیر و شر‘ تہذیب‘ زمان و مکاں‘ سیاست وغیرہ کا اس کتاب میں یورپی فلاسفروں کے ساتھ علمی مباحثہ پیش کیا ہے۔ جگن ناتھ آزاد نے یورپی مفکرین کے بارے میں اقبال کی شعری اور نثری حوالہ جات سے مثالیں پیش کی ہیں اور ہر مفکر کے لیے علیحدہ علیحدہ ابواب قائم کیے ہیں۔ اقبالیا ت کے دلدادہ اور قارئین کے لیے یہ کتاب بے حد مفید ہے۔مجھے اُمید ہے کہ اس کتاب کو عام قارئین بالعموم اور فلسفہ کے محققین تحسین کی نظر سے دیکھیں گے اور فکرِ اقبال سے آشنائی کے فروغ کے ضمن میں اسے ایک مفید پیش رفت قرار دیں گے۔ میں بُک کارنر‘جہلم کی اس ادبی کاوش کو سراہتا ہوں جنھوں نے اس مفید اور نایاب کتاب کی پاکستان میں اشاعت کی اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اُردو ادب میں بہترین کتب کی طباعت کے ساتھ ساتھ اقبالیاتی ادب میں بھی خوبصورت اضافے کیے ہیں۔
(میاں ساجد علی)
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
