PEKAR E JAMEEL پیکر جمیل ﷺ
PKR: 2,000/- 1,200/-
Author: MUHAMMAD HAMEED SHAHID
Binding: hardback
Pages: 320
ISBN: 978-969-662-092-1
Categories: ISLAM SEERAT UL NABI BIOGRAPHY
Publisher: BOOK CORNER
صاحب نصیب ہیں محمد حمید شاہد کہ اللہ کریم نے انہیں توفیق عطا فرمائی کہ وہ سرور دو عالم نبی آخر الزماں احمد مجتبیٰﷺ کی سیرت طیبہ کو قلم بند کرنے کا شرف اور سعادت حاصل کریں۔ اُردو، اسلامی دُنیا کی زبانوں میں سب سے کم عمر زبان ہے مگر اس کا اعزاز ہے کہ قرآن حکیم کے تراجم و تفسیر اور سیرت طیبہ پر جتنا اور جیسا معیاری کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ کسی دوسری زبان سے کم نہیں ہے۔ ’’پیکر جمیل‘‘ محمد حمید شاہد کی پہلی کتاب ہے مگر اپنے معیار و نگارش و مواد کے اعتبار سے کتب سیرت میں ایک لائق اعتبار و استناد حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ سادہ، رواں اندازِ بیان اور نیاز و اخلاص کے پیرائے میں ڈوبا ہوا اسلوب قاری کو اپنی جانب منہمک اور متوجہ رکھتا ہے۔ خیر سے اس کتاب کی اشاعت کو کئی برس گزر چکے ہیں اور اب جبکہ وہ افسانوں اور تنقیدی کتابیوں کے مصنف کے طور پر ساری دُنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور حال ہی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو یومِ پاکستان کے موقع پر قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا، ’’پیکر جمیل‘‘ کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔ یقین کیا جانا چاہیے کہ ان کی یہ خدمت دُنیا و آخرت میں ان کی سربلندی اور سرفرازی کی ضامن ہو گی۔
(افتخار عارف)
اللہ اللہ وہ مقتدر و ارفع ہستی کہ انﷺ کی ذات کے حوالے سے بات ہو تو کلام خود بہ خود بلیغ بنے۔ کہنے والے کی عقیدت اور محبت والہانہ بن کے تناسب سے اس میں بیان کی اثریت کا سماں الگ باندھے!
حضورسرورکونینﷺ کی ذات مقدس سے شیفتگی و عشق ہمارا جزو ایمان ہے، آپﷺ کا ذکر پاک ہماری ضامن سعادت اور اسوئہ حسنہ کی تقلید اور پیروی نصیبہ بنے تو کونین میں سرفرازی و سرخروی کی سند!!
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم… کا اعلان کر کے اس شاعر معجزبیاں نے حضورنبی کریمﷺ کے شایان شان اظہار کلام میں جس عجز کا اظہار کیا، یہ سب کا معاملہ ہے…کسی قلم کو قدرت نہیں کہ آپﷺ کی بات پوری پوری بیان کر سکے۔ اب دیکھنا یہ رہ جاتا ہے کہ اگر فرط شوق میں اس حوالے سے خامہ رواں ہو تو اس کی کیفیت کا کیا عالم رہا۔
’’پیکرِجمیلﷺ‘‘ اس اعتبار سے سادہ و دلنشیں پیرائے میں لکھی ہوئی ایسی کتاب ہے، جس کا ہنر جامعیت ہے۔ سیرت و حیات طیبہ پر لاتعداد مستند ضخیم عظیم تصنیفات اور تالیفات دنیا کی ہر معلوم زبان میں موجود ہیں اور پھر بھی اس موضوع پر کہنے لکھنے کو اتنا ہی موجود ہے…… بالکل ایسا معلوم ہو ایک بہرناپیداکنار سے باہمہ مساعی چند پیالہ پانی اپنی اپنی بساط و بضاعت کے مطابق اکٹھا کیا جا سکا ہے…
محمدحمید شاہد نے بھی اس قلزم شفاف سے چند چمکتے ہوئے قطرے سمیٹے ہیں اور انہیں سلیقہ کے ساتھ کاغذ کے طشت پر یوں سجایا ہے کہ بڑے بھلے لگتے ہیں اور ان سے آنکھوں کو بہ یک وقت روشنی اور تازگی ملتی ہے اور یہ دل و ذہن کو خوب سیراب کر جاتے ہیں۔
اس مختصر کتاب میں حیات طیبہ کے تمام اہم پہلوئوں کو دقیقہ دقیقہ، ثقہ ثقہ، عمیق وبسیط حوالوں کے ساتھ، قرآن مجید و صحیح ستہ کے تناظر میں بڑی صلابت فکر و اصابت ذکر سے عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ تاریخ مگر اس میں صنف تاریخ نویسی کا ٹکا بندھا پیرایہ نہیں در آیا، حقیقت پر افسانوی چھاپ نہیں لگنے پائی۔ ادب کی تمام تر چاشنی کا وصف تحریر میں اجاگر ہے اور حقیقت بیانی کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے۔ مصنف کو اظہار پر پوری قدرت ہے زبان و برجستہ استعمال میں لاتا ہے۔ کہیںمحسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتاب اس نے بن کر لکھی ہے جو ہمارے آج کے ادب نگاروں و قلم کاروں کا شیوہ ہو گیا ہے یہ تصنیف قدرتی انداز میں بڑی خوب صورت بنا سنوار کر لکھی گئی ہے جو مطالعہ کو معلومات کے ساتھ ساتھ روحانی خوشگواری بہم پہنچاتی ہے۔
(شوکت واسطی)
بیسویں صدی کے اواخر کی بات ہے۔ آج کے احمدشہریار شہید سے ونگ کمانڈر عتیق احمد تک میرے چاروں بچے جب اوّل اوّل کتابیں پڑھنے کے لائق اور شائق ہوئے تو مجھے یہ تلاش ہوئی کہ ان سب کو سیرت النبیe کی کسی دلکش پیشکش سے متعارف کرائوں جو ان کے لیے بھی اپنا کردار بنانے میں رہنما بن سکے۔ شبلی کی سیرت النبیe کی تاریخیت بہت محکم ہے، مگر اس کی عربی نہاد اور عالمانہ افتاد نوعمروں کے لیے شاید دلچسپی کا باعث نہ بن پاتی۔ چوہدری افضل حق کی ’’محبوبِ خداe‘‘ کا لہجہ بلاشبہ حُبِّ نبیe میں حرف حرف ڈوبا ہوا ملتا ہے مگر حضورنبی کریمe کی حیات مطہرہ جس طرح واقعات اور سانحات سے گزرتی رہی اس کی تدریج بھی نوجوانوں کے لیے مطلوب تھی کہ ان کے رسولe تاریخ کے لکھے جانے کے زمانے کی شخصیت ہیں، سو اُنe کے کوائف ساری لطافتوں کے ساتھ ملنے چاہیے تھے۔ مجھے کتابیں دیکھتے ہوئے محمدحمیدشاہد نام کے کسی مصنف کی کتاب ’’پیکرِجمیلe‘‘ پسند آ گئی، سو میرے چاروں بچوں نے اسی سے اوّل اوّل فیض پایا۔
’’پیکرِجمیلe‘‘ کتاب یوں پسند کی کہ اس کی زبان سادہ اور سہل ہے۔ تحریر رواں اور بیان اس دلچسپی کا حامل ہے جو کسی مسلمان کو اپنے محبوب رسولe کی بات کو محبوب بنانا سکھا دیتا ہے۔ اس کتاب کا ایک اضافی حُسن یہ ہے کہ اس نے تھوڑے لفظوں میں یہ سعی بھی کی ہے کہ آج کے مغرب زدہ ذہن کو اپنی تہذیب اور اپنے دین کے قریب ہونے کے قابل بنائے، بعض اُلجھنوں اور بعض سوالوں کے بڑے واضح حل بھی مصنف کی عطائے خصوصی ہیں۔
آج کا نوجوان جو اپنی بعض الجھنیں رفع کرنا چاہتا ہے اور جو حضورنبی کریمe کی ذات مبارک کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتا ہے، اسے ایسی میٹھی زبان اور ایسے ہی ہلکے پھلکے انداز میں لکھی سیرت النبیe کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے محبوب رسولe کے نقوش پا یوں ہی قدم بہ قدم دیکھتا جائے جیسے کہ آپe کی زندگی کے ارتقائی مطالعہ میں محمدحمیدشاہد نے دکھانے کی سعی کی ہے۔ یہاں وضاحت مل جاتی ہے تفصیل اور مباحث نہیں اور نوجوانوں کو، نئے ذہن کو یہی مطلوب ہے۔
آج اگر محمدحمیدشاہد ہمارے محبوب ناموں میں ہیں تو اس کے پیچھے شخصی وصفی بنیادیں ہیں، طویل زمانے کی رفاقت ہے، جو بولتی ہے مگر اُس زمانے کے محمدحمیدشاہد سے آشنائی صرف اس تخلیقِ جمیل کے صدقے ہوئی تھی جس کا نام ’’پیکرِجمیلe‘‘ کے نامِ نامی پر رکھا گیا تھا۔
خدا اور محبوبِ خداe ان کی اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں۔ آمین!!
(احسان اکبر)
