Rasool-e-Arabi - Buy Online | Book Corner

RASOOL-E-ARABI رسول عربی ﷺ

Inside the book
RASOOL-E-ARABI

PKR:   950/- 475/-

Author: G. SINGH DARA
Binding: hardback
Pages: 128
ISBN: 978-969-662-025-9
Categories: ISLAM SEERAT UL NABI BIOGRAPHY
Publisher: BOOK CORNER

دس گیارہ برس ہوئے۔ ایک کتاب بنام ”رسولِ عربی ﷺ“ انگلستان میں لکھی گئی اور ہندوستان میں چھپی تھی۔ اب دوبارہ چھپ رہی ہے۔ اس کے مصنف مسٹر جی ایس دارا صاحب بیرسٹر ایٹ لاء ایڈووکیٹ ہائی کورٹ پنجاب کے ایک معزز اور علم دوست سکھ گھرانے سے ہیں۔ ان کو جو سچی ارادت اپنے بزرگ گرو بابا نانک جی سے ہے، غالباً وہی اس کتاب کے لکھنے کی محرک ہوئی ہوگی۔ گرو نانک جی شمعِ توحید کے پروانے تھے اور پیغمبر ﷺ کے پیغام کی دل سے قدر کرتے تھے۔

مسٹر دارا کوئی بیس سال سے انگلستان میں مقیم ہیں اور انگریزی میں اخبار نویسی کرتے ہیں۔ ان کا ایک رسالہ ”انڈیا“ نامی نکلتا ہے، جسے انہوں نے بڑی محنت اور بہت ایثار کے ساتھ جاری رکھا ہے۔ انہیں ہندوستان کی آزادی کی تحریک سے زیادہ تعلق رہا ہے۔ وہ کانگریس کے بہت سے اصولوں کے موافق ہیں، مگر بہت سی باتوں میں خاص کر طریقۂ کار میں وہ کبھی کبھی اس سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔ وہ سکھ مذہب کے ماننے والے ہیں اور ہندوؤں کے بھی ہمدرد ہیں اور مسلمانوں کے بھی دوست ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان قوموں کے باہمی تعلقات دوستانہ رہیں، اس آزاد روش کے سبب ان کو بہت سی مشکلات پیش آئیں جن کا انہوں نے مردانہ وار مقابلہ کیا۔

دارا صاحب جب پنجاب میں اپنی تعلیم سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے گورنمنٹ کے محکمۂ مال میں ملازمت اختیار کی۔ ان کے والد تحصیلدار تھے اور ان کی اپنی ملازمت نائب تحصیلداری سے شروع ہوئی، مگر ان کی طبعِ آزاد پسند ملازمت کا بار دیر تک برداشت نہ کرسکی۔ اگر یہ معمولی طور پر اپنے محکمہ میں رہتے تو اب تک کسی بڑے عہدہ تک پہنچ کر اور اچھی پنشن پا کر خانہ نشین ہوتے۔ کیونکہ اب ان کی عمر ساٹھ 60 سال کے قریب ہے لیکن مسٹر دارا نے نوکری چھوڑ دی اور بیرسٹری کا قصد کیا۔ 1914ء میں انگلستان آئے اور یہاں سے آئرلینڈ میں گئے تاکہ ڈبلن سے بیرسٹری پاس کریں۔ 1917ء میں کامیاب ہو کر وطن کو واپس گئے اور لاہور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ ہو گئے۔ تجربہ نے بتایا کہ وکالت کے لیے بھی، جسے وہ آزاد پیشہ سمجھتے تھے اور لوگ بھی جسے مقابلتاً آزاد سمجھتے ہیں، کئی ایسی پابندیاں ہیں، جیسی ملازمت میں ہیں۔ اس وقت جوانی میں سیاسی خدمت کا بھی غلبہ تھا۔ انہوں نے وکالت کا خیال ترک کر کے انگلستان میں آ کر اپنا انگریزی رسالہ جاری کر دیا۔ مالی اعتبار سے اس میں ہمیشہ نقصان رہا مگر یہ اس کو چلاتے رہے۔

دارا صاحب نہایت درویشانہ اور سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنے ہاتھ سے کبھی کبھی کچھ ہندوستانی کھانا پکا لیتے ہیں، کبھی کبھی کسی ارزاں ہوٹل میں کھانا کھا لیتے ہیں۔ ایک کمرہ رہنے کو ہے، اسی میں لکھنا پڑھنا، اسی میں سونا، اسی میں کوئی ملنے آئے تو اس سے مل لینا۔ اخبارات بکثرت پڑھتے ہیں اور ان میں جو مضمون اپنے کام کا ہو، اس کا تراشہ کاٹ کر رکھ لیتے ہیں۔ انگریزی میں ہندوستان کی موجودہ سیاست پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں، مگر وہ دیر سے ان کی مشکل پسند طبیعت کی کٹھالی میں صاف کی جا رہی ہے۔ اگر اس کٹھالی سے نکل آئی تو امید ہے کہ کام کی چیز ہوگی۔

یہ وہ شخص ہے جسے خیال آیا کہ حضرت محمد ﷺ کے حالات لکھے اور اس محبت کا اظہار کرے جو اسے آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات سے ہے۔ اس نے اپنی عقیدت کے پھول بارگاہ رسالت پر پڑھائے ہیں اور غالباً قبول ہوئے ہوں گے۔ یہ نذرانہ دوبارہ پیش کرنے کا موقع انہیں مل رہا ہے۔ جب یہ کتاب پہلے شائع ہوئی، تو مولانا سید سلیمان ندوی نے اسے پسند کیا تھا اور اس کے لیے ایک مختصر سا دیباچہ لکھا تھا، جو اب طبع ثانی کے ساتھ بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس اشاعت میں دارا صاحب نے خود بھی ایک تمہیدی مضمون لکھا ہے، جس میں بتایا ہے کہ انہیں کس طرح آنحضرتﷺ کے حالات پڑھنے کا شوق ہوا اور اس مطالعہ کا ان پر کیا اثر ہوا۔ ان کے بعض مسلمان دوستوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ اس کتاب کو پھر چھپوائیں، میں نے بھی اس تجویز کی تائید کی۔

اس زمانے میں جب بعض کوتاہ اندیش لوگ ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں کی تعظیم کرنے کے بجائے ان پر ناجائز اور نامناسب حملے کرتے ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر قوم کے دور اندیش اور وسیع الخیال صاحبان دوسری قوم کے واجب التعظیم بزرگوں کی خوبیوں کا اعتراف کریں اور اپنے بھائیوں کو ان سے آگاہ کریں۔ خود مسلمانوں کے لیے ایسی کتاب کی اشاعت اس لیے خاص دلچسپی رکھتی ہے کہ ان کی محبت اپنے پیغمبرﷺ سے اور مضبوط ہوتی ہے، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے بھی ان کے احسانات کو مانتے ہیں۔ فطرت انسانی کے اس جذبے کو غالب نے کس خوبی سے بیان کیا ہے۔

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنان مصر سے
ہے زلیخا خوش، کہ محو ماہ کنعاں ہو گئیں

میں بھی اپنے دوست دارا صاحب سے خوش ہوں کہ وہ ”ماہ عرب“ کی تعریف میں ہم نوا ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے بہت سے مسلمان بھائی بھی ان کی انصاف پسندی اور عقیدت مندی کی داد دیں گے۔

شیخ سر عبد القادر صاحب
26 مارچ 1939ء


اس کتاب کے مصنف جناب جی ایس دارا (بی ایل، بیرسٹریٹ لاء لاہور) سے لندن میں ملنے جلنے کا اکثر اتفاق ہوا۔ ان کی بے تعصبی اور توحید پرستی دیکھ کر دل بہت خوش ہوا کہ اگر ہندوستان کے مختلف فرقوں میں ایسی انسانیت و محبت کے چند افراد پیدا ہو جائیں تو ابنائے ہند کی باہمی الفت کی دیوار اس قدر مستحکم ہو جائے کہ باہر کے دشمن اس کو کبھی توڑ نہ سکیں۔

دارا صاحب نے پیغمبر اسلام ﷺ کی سوانح عمری بڑی بے نفسی اور بے تعصبی کے رنگ میں لکھی ہے۔ کتاب کے حرف حرف سے عشق و محبت کے آبِ کوثر کی بوندیں ٹپکتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والے کا قلم کسی جوش و خروش کے دریا میں بہتا جا رہا ہے۔ میں نے اس کتاب کو شروع سے اخیر تک پڑھا اور ایک رواں کتاب کی حیثیت سے اس کو پسند کیا۔ ممکن تھا کہ یہ کتاب تاریخ کی حیثیت سے اس سے زیادہ بلند پایہ پر لکھی جا سکتی، لیکن یہ ناممکن تھا کہ کوئی نامسلم اس سے زیادہ خلوص و عقیدت کی نذر دربارِ رسالت ﷺ میں پیش کر سکتا اور یہی اس کتاب کی بہترین خصوصیت ہے۔ اگر الفاظ اور طریقۂ تعبیر میں کہیں کہیں غلطی ہو تو مفہوم و معنی پر نظر اور مصنف کے حسنِ نیت پر گمانِ نیک رکھنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رحمۃ للعالمین ﷺ کے صدقے ہندوستان کے مختلف مذہبی فرقوں میں اتحاد و یکجہتی کی لہر پیدا کر دے اور ہر ایک کو دوسرے کے رہنماؤں اور راہبروں کی عزت و توقیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

سید سلیمان ندوی

RELATED BOOKS