MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس
MAHARAJA PORUS مہاراجا پورس
PKR: 1,500/- 1,050/-
Author: DR. BUDDHA PRAKASH
Translator: PROF. HAMEEDULLAH SHAH HASHMI
Binding: hardback
Pages: 224
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-375-5
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 10 May 2026
صاحبانِ علم و نظر ہی جانتے ہیں کہ تاحدِّ نگاہ پھیلی زمین میں کھدائی کس جگہ کی جائے تو اس میں مدفن حقیقتوں کو آشکار کیا جا سکتا ہے۔ بدھا پرکاش بھی ایسے ہی صاحبِ علم و نظر ہیں جنھوں نے تاریخ کے وسیع میدان سے پورس کو یوں کھود نکالا ہے کہ وہ شخص جس کےحالاتِ زندگی کے متعلق دو چار موٹی موٹی باتوں کےسوا یونانی کتابوں میں کچھ دستیاب نہیں تھا، اپنی پوری شخصیت، حالات اور واقعات کے ساتھ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پر یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ جس شخص نے مہاراجا پورس کو بازیاب کیا، آج اس کے اپنے حالاتِ زندگی بسیار کوشش کے دستیاب نہ ہو سکے۔ مگر ’’لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے‘‘، بدھا پرکاش کی یہ کتاب ان کا نام زندہ رکھنے کو کافی ہے۔
---
ڈاکٹر بدھا پرکاش، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اہم محقق اور مؤرخ ، قدیم ہندوستانی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ مختلف یونیورسٹیز سے ایم اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں تدریسی میدان میں اُترے اور بھارتی تاریخ، ثقافت اور آثارِ قدیمہ کے پروفیسر رہے۔ کچھ عرصہ کُورُوکشیتر یونیورسٹی (کُورُوکشیتر) میں اِنڈک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ اس کے بعد پنجابی یونیورسٹی (پٹیالہ) سے وابستہ ہو گئے اور قدیم تاریخ و ثقافت ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس دوران اہم تحقیقی کتب تصنیف کیں جن میں ’’مہاراجا پورس‘‘ نمایاں کارنامہ ہے۔ برصغیر میں پورس پر تحقیقی کام کرنے والے گنے چُنے مؤرخین میں پروفیسر بدھا پرکاش کا نام نہایت اہم اور مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔
---
پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی ، ممتاز سکالر، معروف ادیب و مترجم، 27مئی 1937ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ اُردو، انگریزی، پنجابی اور سرائیکی زبان و ادب کی محبّت ان کے کام سے ظاہر ہے۔ علم و ادب کی خدمت کا یہ سلسلہ گزشتہ پچاس برس سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 100 سے زائد علمی، ادبی اور تحقیقی کتب ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
