THE GIVER - URDU دی گیور
PKR: 900/- 630/-
Author: LOIS LOWRY
Translator: ASMA HUSSAIN
Binding: paperback
Pages: 174
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-679-4
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS FANTASY DYSTOPIA
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 20 April 2026
ایک زبردست اور ذہن کو جھنجوڑ دینے والا ناول۔
— نیویارک ٹائمز
نہایت مہارت سے بُنی ہوئی کہانی، جس میں یوٹوپیائی معاشرے کا کھوکھلا پن اور ہو لناکی بتدریج ابھرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک فکر انگیز ناول۔
— کرکس رِیویوز
لاؤری ایک بار پھر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔ وہ بے شمار سوالات اٹھاتی ہیں مگر جواب کم دیتی ہیں، متجسس قارئین کے لیے پرت در پرت آشکار ہوتی کہانی۔
— پبلشرز وِیکلی
لاؤری کی نثر کی سادگی اور سلاست قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
— بُک لسٹ
لوئس لاؤر ی نے ایک خوبصورت اور فکر انگیز سائنس فکشن ناول لکھ ڈالا ہے۔ کہانی مہارت سے بُنی گئی ہے؛ اورایک اَن دیکھی بے چینی کی فضا دھیرے دھیرے کہانی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور آزادی اور تحفظ کے درمیان توازن کا موضوع نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
— ہارن بُک
’’دی گیور‘‘ ایسی باتیں کرتا ہے جنھیں بار بار دہرایا نہیں جا سکتا اور مجھے امید ہے کہ بہت سے نوجوان اِن باتوں پر توجہ دیں گے۔ ایک تنبیہ کہانی کے روپ میں!
— واشنگٹن پوسٹ
لوئس لاؤری (پیدائش: 20 مارچ 1937ء) ایک معروف امریکی مصنفہ ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کے ادب میں اپنے کام کے لیے جانی جاتی ہیں۔ انھوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں، جو اکثر ڈسٹوپیا، یادداشت اور انسانی تعلقات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ لاؤری کو سب سے زیادہ ان کی ’’دی گیور‘‘ (The Giver) سیریز کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر پہلی کتاب دی گیور) 1993ء( کے لیے جو ایک کنٹرولڈ معاشرے کی کہانی ہے۔ ان کی تخلیقات کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں، جن میں دو نیوبیری میڈلز بھی شامل ہیں۔ پہلا ’’نمبر دی سٹارز‘‘ (1989ء) کو دیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں ایک تاریخی ناول ہے اور دوسرے میڈل سے ’’دی گیور‘‘ کو نوازا گیا۔ لوئس لاؤری کی تحریریں نوجوان قارئین کو نہ صرف داستان گوئی سے محظوظ کراتی ہیں، بلکہ انھیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے اہم موضوعات پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ جدید دور کی سب سے مؤثر اور بااثر مصنّفین میں شمار ہوتی ہیں۔
---
اسماء حسین کا تعلق کراچی سے ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے پاکستان سٹڈیز کیا۔ کراچی اور اسلام آباد کے گورنمنٹ کالجز اور ایک امریکن یونیورسٹی میں بطور اُردو لیکچرر تدریس کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کی عالمی کہانیوں کے تراجم پر مشتمل کتاب ’’تین درویش‘‘، نوبیل انعا م یافتہ ادیبہ ہان کانگ کے مشہور ناول ’’دی ویجیٹیرین‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’شاکاہاری‘‘ اور مشہور اسرائیلی ادیب کی مختصر کہانیوں کے تراجم ’’پائپس اور دیگر افسانے‘‘ اور ’’ خانہ روشن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے کئی افسانوں کے تراجم اور ان کے اپنے افسانے مختلف آن لائن جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسماء حسین آج کل ڈنمارک میں مقیم ہیں۔
