Der saver to ho jati hai - Buy Online | Book Corner

DER SAVER TO HO JATI HAI دیر سویر تو ہو جاتی ہے

DER SAVER TO HO JATI HAI

PKR:   1,999/- 1,399/-

Author: ALMAS SHABI
Binding: hardback
Pages: 192
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-721-0
Categories: POETRY
Publisher: BOOK CORNER

احمد فراز نے کہا تھا...
نگار تھا نظر آیا نگارخانہ وہ
الماس شبی کی شخصیت کے نگارخانے میں بھی رنگ و معنی کا ایک جہاں آباد ہے۔ نثر نگاری کے میدان میں ان کے اسلوب کی چمک، شاعری کی جولاں گاہ میں ان کی معجزبیانیاں اور آواز کی دنیا میں ان کے لب و لہجے کی تازہ کاری کا ایک زمانہ معترف ہے۔ شبی کا قیام امریکا میں ہے لیکن ان کے نام اور کام کے جاننے اور ماننے والے دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ یہ کم سواد بھی خود کو الماس شبی کے مدّاحین کی اسی فہرست میں شامل سمجھتا ہے۔ شبی کا کہنا ہے کہ
عشق وظیفہ، پاس ہے میرے
جس کو چاہوں پاگل کر دوں
میں سمجھتا ہوں کہ یہ عشق وظیفہ، اصل میں ان کا یہی بےپناہ تخلیقی جوہر ہے جس کی کرشمہ سازیاں ہمیں ان کی ہر تصنیف میں نظر آتی ہیں۔ ’’دیر سویر تو ہو جاتی ہے‘‘ میں شامل ان کی شاعری آپ کے روبرو ہے۔ اسے پڑھیے، اس شاعری کی روح کو اپنی ذات کے اندروں میں سمونے کی سعی کے ساتھ... آپ خود کو میری رائے سے متفق پائیں گے۔
(شعیب بن عزیز)

ادبی دنیا کی مسافت میں الماس شبی نے کئی پڑاؤ ڈالے ہیں۔ پگ ڈنڈیوں پر سنبھلتی ہمکتی مچلتی، بڑھتی رہی اور ہمہ دم و پیہم سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مشقِ سخن کی چھاؤں اور مزاولت کے گاؤں کی کچی رہ گزر سے، شہرِ سخن کی پکی سڑک تک پہنچتے پہنچتے عموماً تخلیق کاروں کا سانس پھول پھول جاتا اور دم اکھڑاکھڑ پڑتا ہے۔ بہ ایں ہمہ الماس شبی جیسے کچھ مسافرانِ حوصلہ مند، آبرو مندی کے ساتھ ثمریاب ہو ہی جاتے ہیں۔ شاعری کے کینوس پر فکر و فن کے کچے پکے رنگوں سے غزل اور نظم کی ہمہ جہت ہیئت و اصناف کے خد و خال کی نقش گری بھی کوئی کھیل یا بازیچۂ اطفال نہیں۔
الماس شبی نے بھی دیر سے یہ سفر جاری رکھا ہوا ہے اور یہ کہتے ہوئی اپنی شناخت بنائی کہ اس سفر میں ’’دیر سویر تو ہو جاتی ہے‘‘۔ تا ہم دیر آید درست آید کے مصداق، منہ اندھیرے سفر کا آغاز کرنے والی الماس نے بھی، دیر سے ہی سہی مگر سویر کا سورج ضرور دیکھ لیا۔
الماس نے شاعری کی جولان گاہ میں قلم سے،موقلم کا کام لیتے ہوئے شاعری کی مختلف اصناف و ہیئت میں بوقلمونی دکھائی ہے۔ سو اس تخلیق کار کا مستقبل، حال سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے ایسی متنوع مستقبل اساس تخلیق کار کا سواگت اور استقبال تو بنتا ہے ناں... گوکہ اس منزل کے حصول اور رستے کے پیچ و خم سے الجھتے ’’دیر سویر تو ہو جاتی ہے‘‘۔ ادبی قافلے میں اس دیر آید آواز ِجرس کو خوش آمدید۔
خیر اندیش و قلم برداشتہ
(ڈاکٹر آفتاب مضطر)

الماس شبی رومانی تصوف کی شاعرہ ہے، یہ تصوف ترکِ دنیا کا قائل نہیں بلکہ رشتوں کا بوجھ اٹھانے کی اخلاقیات سے جنم لیتا ہے، یہ تسبیح کےدانوں سے نہیں بلکہ سانسوں کی بے ترتیبی سے خدا کو پہچانتا ہے۔ یہ رومانی تصوف بلند مینار سے اذان نہیں دیتا بلکہ محبوب کے ہجر میں ٹوٹی ہوئی اداس بانسری سے محبت کی نوحہ گری کرتا ہے، یہ نہ تو وجد کی بلند چیخ ہے نہ ہی زہد کی سرد خاموشی، یہ محبت، اخلاق اور خودی کے اندھیروں میں سفر کرتی ہوئی وہ روشنی ہے جو کاغذ میں لپٹی ہوئی دعا پر لہجے کی صداقت کو ترجیح دیتی ہے۔ اس روشنی کا عرفان آسان نہیں یہ روشنی تو جل کر ہی حاصل ہوتی ہے۔
تعویذ گلے باندھ کے تم پھرتے ہی رہنا
جادو مرے اندازِ تکلّم کا چلے گا
الماس کاتصوفی رومان وہ چراغ ہے جس نے مصلحت پسند ہواؤں کے اشارے پر جلنے بجھنے سے انکار کردیا ہے۔ یہ چراغ احساسِ خودی سے روشنی کشید کرتا ہے۔ اور اسی چراغِ خودی نےالماس کی شاعری کو محبت کی شعوری جمالیات میں تبدیل کر دیاہے۔ فکر و احساس کو محبت کی شعوری جمالیات بننے میں دیر سویر تو ہوجاتی ہے۔
(ڈاکٹر طارق قمر)

RELATED BOOKS