Gurezan - Buy Online | Book Corner

GUREZAN گریزاں

GUREZAN

PKR:   1,999/- 1,399/-

Author: ZAHEER FATEHPURI
Editor: MUHAMMAD IZHAR UL HAQ
Binding: hardback
Pages: 184
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-707-4
Categories: POETRY
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

ظہیر فتحپوری کا پورا نام سیّد ظہیر حسنین عابدی تھا۔ 13 مئی 1928ء کو قصبہ ایرایاں سادات ضلع فتحپور ہَسوَہ (یُوپی) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1947ء تک زیادہ تر گوالیار میں قیام رہا۔ تقسیم ہوئی تو راولپنڈی آگئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ 1956ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے اُردو کیا۔ 1963ء میں مجلس ترقّیِ ادب لاہور کے لیے مرزا رُسوا کا ناول ’’اُمرائو جان اَدا‘‘ مرتّب کیا۔ 1965ء میں ’’رُسوا کی ناول نگاری‘‘ بطورتھیسز پنجاب یونیورسٹی کو ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کی اور اسی ادبی کاوش پر آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔ گورنمنٹ کالج راولپنڈی میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ تدریسی شعبہ میں کچھ دن کے لیے چین کی پیکنگ یونیورسٹی بھی گئے، لیکن خرابیٔ صحت کے باعث وہاں زیادہ قیام نہ کرسکے اور جلد ہی وطن واپس آگئے۔ واپس آنے کے بعد زیادہ تر بیمار ہی رہے اور طویل علالت کے بعد 8 جولائی 1981ء کو راولپنڈی میں راہیِ مُلکِ بقا ہوئے۔ ڈاکٹر ظہیر فتحپوری کی جھولی علمی و فکری تمام اصنافِ سخن کے انمول جواہرات سے لبریز ہے۔ ان کے دیگر علمی کارناموں میں منتخب مراثیِ دبیر، رُسوا کی شاعری، رُسوا کی تنقید، پریم چند کا تنقیدی مطالعہ، اُردو شاعری کی جمالیاتی قدریں اور پریم چند کا نظریۂ حیات اور نظریۂ فن شامل ہیں۔ ان جواہر پاروں کے علاوہ شعرا اور ادیبوں پر ان کے متعدد مضامین رسالوں میں چھپ چکے ہیں۔ ادیب اور نقّاد ہونے کے ساتھ وہ اپنی ترپن سالہ زندگی کے میدانِ شاعری میں بھی ذہنی سفر کا قدیم تجربہ رکھتے تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام 1991ء میں ’’گُریزاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں اغلاط بہت تھیں۔ نامور شاعر اور ادیب محمد اظہار الحق نے اس مجموعے کو نئے سِرے سے ترتیب دے کر بلاشبہ ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے۔

یہ دَھرتی بہت وسیع ہے۔ اِس میںبھانت بھانت کی مٹّی ہے، طرح طرح کا رنگ روپ ہے۔ میرے ملک اور میری سرزمین کی اپنی مہکار ہے، اپنے رنگ ہیں، اپنے پیکر ہیں۔ میری اِن غزلوں میں اپنے دیس کی بُو باس ہے۔ اِن میں جو آہنگ ہے اُس میں میرے مُلک کی ندیوں کا لہرائو ہے۔ یہ اپنی ڈیڑھ اِینٹ کی الگ مسجد بنانے کی شعوری کوشش نہیں بلکہ لاشعور کا فِطری بہائو ہے۔ اِس بہائو کی موسیقی میں جو رَس ہے وہ دیسی ہے، عجمیؔ یا مغرؔبی نہیں۔ تمام دُنیا کے انسان یکساں جذبے رکھتے ہیں، مگر اِظہار کے انداز جُدا جُدا ہیں، اِظہار کا فرق — سوچیے تو— مٹّی کا فرق ہے۔ میرے وطن پاکستان کی بھی اپنی شوبھا (Charm) ہے جو اَوروں سے مختلف اور منفرد ہے۔ باہر کی ہوائیں یہاں سے بھی گزرتی رہی ہیں۔ یہاں کے پھولوں، پتیوں پر ان کے اثرات پڑے ہیں۔ کچھ اثرات جزوِ چمن ہو گئے ہیں۔ ہمارے مزاج کا حصّہ بن گئے ہیں۔ وہ اَب ہمارے ہیں۔ مگر کچھ اَیسے بھی ہیں جن کے پھیر میں پڑ کر ہم اپنے جمالِ فن کے کئی زاویوں سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ اِن غزلوں میں انہی زاویوں کو اُجاگر کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔
(ظہیر فتحپوری)

ڈاکٹر ظہیر فتحپوری صاحب کی شاعری کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لکیر کے فقیر نہیں تھے۔ عام کلاسیکی بحور میں بھی ان کی غزلیں اور نظمیں جدّت لیے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا اصل کارنامہ ہندی بحور (ماتراوں) میں غزل کہنا ہے۔ ان سے پہلے اگر کسی نے یہ کام کیا بھی ہو تو اس سطح پر اور اس پیمانے پر شاید نہ کیا ہو۔ انھوں نے نہ صرف ہندی کے بحور اپنائے بلکہ لفظیات بھی وہ استعمال کیں جو مقامی کلچر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے چند اشعار دیکھیے:
مگر جب سے اے سلونے تیری ادائوں کا بانکپن دیکھا ہے
تو سچ مُچ بے قیدِ موسم ہم نے بہاروں کو خیمہ زن دیکھا ہے
***
حُسن کہ تھا سِیماب صفت ٹھہرا نہ چمن میں
آن بسا کچھ تیرے تن کچھ میرے من میں
***
مِرے من موہن ترے مکھڑے پر کھلے بیلے کا سجیلا پن ہے
نصیبہ اب کے بہت اترایا، تبسّم ہے یا کنول روشن ہے
***
جو بھید بن چھانو گے جو گیان سُکھ لوٹو گے
پہیلیاں بُوجھو گے مگر کہاں بُوجھو گے
(محمد اظہار الحق)

ظہیر فتحپوری نے یوں تو روایتی نظمیں اور غزلیں بھی کہی ہیں، مگر اُن کی جدّت پسند طبیعت کا جوہر ان کی مخصوص ہندی بحور والی غزلوں میں اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کی نظیر اس سے پہلے اور اس کے بعد ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی۔
ظہیرؔ کی وہ غزلیں جو انھوں نے ہندی بحور میں کہی ہیں اب تک اس پذیرائی سے محروم رہی ہیں جو ان کا حق تھا۔ اس کا ایک سبب شاید یہ بھی ہو کہ ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ اگر زندہ رہتے اور اس تجرباتی تسلسل میں مزید غزلیں تخلیق کرتے تو ہو سکتا ہے وہ اپنے عہد کے نقّادوں کی توجّہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتے مگر ان کی شاعرانہ شخصیت کے اس رُخ نے محدود حلقہ میں کسی حد تک اثر ضرور ڈالا۔
ہمیں یقین ہے کہ مستقبل کا ادبی نقّاد جب اُردو غزل کے ارتقا اور اس سلسلہ میں تجربات کی بات کرے گا تو وہ ظہیرؔ کی ان غزلوں کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ ؎
عشق میں یوں تو کس نے کیا پایا ہے مگر اے جانِ ظہیرؔ
تجھ کو ہمیشہ یاد رہے گا میرا یہ اندازِ سخن
(ڈاکٹر توصیف تبسم)

RELATED BOOKS