Kahaniyan Duniya Ki

KAHANIYAN DUNIYA KI کہانیاں دنیا کی

KAHANIYAN DUNIYA KI

PKR:   1,200/- 840/-

Author: SALMA AWAN
Binding: hardback
Pages: 223
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-662-2
Categories: SHORT STORIES MEMOIR
Publisher: BOOK CORNER

سلمیٰ اعوان متعدد جہات سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں میں جو خصوصیت دوسری خصوصیات کے مقابلے میں بہت نمایاں محسوس ہوئی وہ سلمیٰ اعوان کے مشاہدے کی اتنی شدید، بلکہ میں کہوں گا کہ اتنی خوفناک گہرائی ہے کہ جو بھی کردار ان کے سامنے آتا ہے اس کے ظاہری خدوخال سے زیادہ وہ اس کے باطن کا ایسا ایکس رے لیتی ہیں کہ کوئی رگ، کوئی نس، کوئی وَرید پوشیدہ نہیں رہتی۔ انسانی کرداروں کے علاوہ مناظر و ماحول کی تصویر کشی میں بھی مشاہدے کا یہ کمال دکھایا گیا ہے۔ سلمیٰ کا اسلوب اتنا رواں اور پُرکشش ہے کہ قاری پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس کے فن میں کوئی ایسا سحر ہے، کوئی ایسا جادو ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور صرف لے لیتا ہی نہیں، اپنی گرفت کو آخر تک برقرار رکھتا ہے۔
(احمد ندیم قاسمی)

سلمیٰ کسی منہ بند چشمے کی طرح پھوٹ پڑی ہے۔ ’’وہ اک تارا‘‘ کیا کمال کی کہانی ہے۔ مجھے تو یہ بھی کہنا ہے کہ اُس کی کہانی کو صرف میں ہی سمجھ سکتا ہوں کہ میں اُس پس منظر سے مکمل واقف ہوں۔
(مستنصر حسین تارڑ)

اینا اور ہیثم کی محبت کی کہانی میں روس کے لیڈروں کی سیاسی اور ذاتی بدکاریوں کا احوال بریژنیف سے لے کر لینن تک یہ سب احوال ایک ملک کی گرتی ہوئی اخلاقیات اور اس کے ساتھ ہی عوام میں غیر مقبولیت کو سلمیٰ نے سیاسی انداز میں نہیں بلکہ کہانی کی اس روانی میں جس میں اینا اور ہیثم کی محبت، قربت اور پھر ہجر کی وہ داستان ہے جو ختم ہوتی ہے اس مقام پہ جہاں مرزا صاحباں یا ہیر رانجھے کی کہانی ختم ہوتی ہے۔ نثر کی چاشنی کو شاعری کے تلازمے کے ساتھ پیش کر کے سلمیٰ نے اظہاریہ کو اور خوبصورت بنا دیا ہے۔ پشکن کی نظموں کے تراجم جو ظ انصاری نے کیے ہیں، یوجینی یوٹو شینکو اور شولوخوف کا حوالہ، گوربا چوف کی گلاس ناسٹ کا تذکرہ ہو کہ جس نے سویت یونین کو پارہ پارہ کرنے کی نیو رکھی۔ اُسی زمانے میں چیچنین مسلمان جنگجوؤں اور روسی فوجوں کی لڑائی جو آج تک دہشت گردوں کی شکل میں پاکستان کی حدود میں موجود ہیں۔ پھر روسیوں کا وہ احساسِ شرمندگی کہ افغانستان پر حملہ کرنا حماقت تھی۔ یہ تمام تفاصیل اس باریکی سے بیان کی گئی ہیں کہ کہانی پڑھتے ہوئے آنکھیں جھپکی نہیں جاتی ہیں۔ پاکستان میں روس کے انقلاب کے بعد اُردو افسانے میں کوئی بیانیہ اس طرح کا نہیں ملتا ہے جیسا کہ سلمیٰ اعوان نے لکھا ہے۔
(کشور ناہید)

’’تہذیبوں کے تصادم، ان کے جبر، ننگی بربریت اور وحشی پن کی کہانیاں اگر صدیوں پرانی تھیں تو آج کی نئی کہانیاں بھی اسی طرح کی ہیں۔‘‘ یہ کڑوا اور کسیلا تاثر سلمیٰ اعوان کا ہے جن کی اُردو ادب میں اولین نمود افسانے کی صف میں ہوئی تھی۔ سلمیٰ اعوان کو اپنے مشاہدات میں وسعت پیدا کرنے کا خیال آیا تو وہ دنیا کی سیاحت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے ممالک غیر کے جغرافیے اور تاریخ میں ہی سفر نہیں کیا بلکہ اپنے زیرِ قدم ممالک کے معاشروں سے کہانیاں بھی جمع کیں۔ یہ دنیا کی کہانیاں ہیں اور یہ روس، فلسطین، عراق، سری لنکا، مصر، ترکی اور بنگلا دیش کے کرداروں اور معاشروں سے تراشی گئی ہیں۔ اب ان کی کتاب ’’کہانیاں دنیا کی‘‘ پڑھی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ محدب شیشے سے حیرتوں کو جمع کر رہی ہیں اور حیرتوں کو کہانیوں کا روپ دے رہی ہیں جن کے کردار حقیقی نظر آتے ہیں۔
(مسعود مفتی)

RELATED BOOKS