ULYSSES (PART 1) یولیسس (جلد اوّل)
PKR: 3,000/- 2,100/-
Author: JAMES JOYCE
Translator: ANWER SEN ROY
Binding: hardback
Pages: 582
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-695-4
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 16 June 2026
’’یولیسس‘‘ تہذیب کے ایک نہایت گھناؤنے مرحلے کی نفرت انگیز روداد ہے، مگر یہ روداد محض چونکا دینے والی نہیں بلکہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی بھی ہے...
— جارج برنارڈ شا، آئرش ڈراما نگار
’’یولیسس‘‘ بالکل نئی نوعیت کی تخلیق ہے: نہ بصری تاثر میں اور نہ ہی سمعی تجربے میں، بلکہ وہ فکری اور تخیلی بہاؤ جو آوارہ ذہن ہر لمحہ تشکیل دیتا ہے۔ جوائس نے شدّتِ احساس کے اعتبار سے اپنے زمانے کے تمام ناول نگاروں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
— ڈبلیو بی ییٹس، آئرش شاعر
’’یولیسس‘‘ اس زمانے کا سب سے اہم ادبی اظہار ہے، ایک ایسی کتاب جس کے ہم سب مقروض ہیں، اور جس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔
— ٹی ایس ایلیٹ، برطانوی شاعر و نقاد
’’یولیسس‘‘ کو چاہے ہم کتنا ہی دشوار یا ناگوار کیوں نہ سمجھیں، اس کی اہمیت اور امتیاز سے انکار ممکن نہیں۔
— ورجینیا وولف، برطانوی ناول نگار
’’یولیسس‘‘ انتہائی شان دار اور بے حد حیرت انگیز کتاب ہے!
— ارنسٹ ہیمنگوے، امریکی ناول نگار
اگر مجھے جدید ادب میں سے صرف دو کتابیں بچانی پڑیں، تو وہ ’’یولیسس‘‘ اور ’’فینیگنز وَیک‘‘ ہوں گی۔
— خورخے لوئیس بورخیس، ارجنٹائنی ادیب
---
جیمز جوائس 2 فروری 1882 کو ڈبلن کے علاقے رتھگار میں پیدا ہوا۔ وہ جان اسٹینسلاس جوائس اور میری جین مرے کے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ خاندان کی مالی حالت غیرمستحکم تھی، جس کے باعث انھیں بار بار رہائش تبدیل کرنی پڑی، تاہم گھر کا ماحول موسیقی، گفتگو اور ادبی شغف سے بھرپور رہا۔ 1888 میں جوائس نے کلونگوز وُڈ کالج میں تعلیم کا آغاز کیا، جو جیسوئٹ اساتذہ کے زیرِ انتظام ایک ممتاز ادارہ تھا۔ یہاں اسے کلاسیکی تعلیم ملی، مگر سخت نظم و ضبط اور جسمانی سزاؤں کے تجربات نے اس کے اندر اختیار اور سزا کے بارے میں گہری حساسیت پیدا کی۔ 1893 میں وہ بیلویڈیئر کالج منتقل ہوا، جہاں اس کی تعلیمی صلاحیتیں پوری طرح نکھر کر سامنے آئیں۔ اسی دور میں اس نے لاطینی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں اور متعدد تعلیمی انعامات حاصل کیے۔ 1899 میں جوائس نے یونیورسٹی کالج ڈبلن میں داخلہ لیا۔ یہاں اس کی فکری دلچسپی ادب، فلسفہ اور جدید یورپی روایت کی طرف گہری ہوتی چلی گئی، اور وہ آئرش قوم پرستی اور روایتی مذہبی بیانیے سے فاصلہ اختیار کرنے لگا۔ اس اثنا میں اس کا تنقیدی مضمون ’’آئبسنز نیو ڈراما‘‘ شائع ہوا، جس سے وہ ایک بااعتماد اور جری نوجوان ناقد کے طور پر ابھرا۔
1902 میں جوائس نے پہلی مرتبہ پیرس کا سفر کیا، جہاں اس نے خود کو یورپی ادب اور تہذیب کے قریب محسوس کیا، اگرچہ یہ قیام مختصر رہا۔ 1903 میں اس کی والدہ، میری جین جوائس، کا انتقال ہوا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں شدید نفسیاتی بحران کا سبب بنا اور چرچ سے اس کا تعلق مزید کمزور ہو گیا۔ 1904 میں جوائس کی ملاقات نورا بارنیکل سے ہوئی اور دونوں نے آئرلینڈ چھوڑ کر بیرونِ ملک رہنے کا فیصلہ کیا۔ 16جون 1904 بعد میں ’’بلومز ڈے‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ 1905 میں جوائس اور نورا کے بیٹے جورجیو کی پیدائش ہوئی، اور خاندان ٹریسٹے منتقل ہو گیا۔
1906 میں وہ مختصر عرصے کے لیے روم میں مقیم رہے، اور غالب امکان ہے کہ اسی دوران ناول ’’اسٹیفن ہیرو‘‘ پر کام کیا گیا۔ 1907 میں بیٹی لُوسیا کی پیدائش ہوئی۔ اسی سال جوائس کا شعری مجموعہ ’’چیمبر میوزک‘‘ شائع ہوا اور وہ دوبارہ ٹریسٹے واپس آ گئے۔ 1911 میں جوائس نے ٹریسٹے میں شیکسپیئر پر لیکچر دیے، جنھوں نے اس کے تنقیدی شعور کی پختگی کو ظاہر کیا۔ 1914 میں افسانوی مجموعہ ’’ڈبلنرز‘‘ شائع ہوا۔
1915 میں جوائس خاندان سمیت زیورخ منتقل ہوا، جہاں اس نے یولیسس پر دوبارہ کام شروع کیا اور ڈراما ’’ایگزائلز‘‘ تحریر کیا۔ 1918 میں رسالہ ’’دی لِٹل ریویو‘‘ میں ناول یولیسس کی قسط وار اشاعت شروع ہوئی، جس نے شدید تنازعات اور فحاشی کے مقدمات کو جنم دیا۔ اسی دوران ناول ’’اے پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ امریکا میں شائع ہوا۔ دو سال بعد جوائس اور اس کا خاندان پیرس منتقل ہوا، اور یولیسس کی قسط وار اشاعت روک دی گئی۔ 1922 میں ناول یولیسس پیرس میں کتابی صورت میں شائع ہوا اور جدید ادب کا اہم ترین سنگِ میل تسلیم کیا گیا۔1939 میں جوائس کا سب سے تجرباتی اور لسانی اعتبار سے دقیق ناول ’’فینیگنز وَیک‘‘ شائع ہوا۔
جیمز جوائس کا انتقال 13 جنوری 1941 کو زیورخ میں ہوا۔ وہ اس وقت 58 برس کا تھا۔
---
انور سِن رائے شاعر، ناول نگار، مترجم اور صحافی ہیں۔ ان کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ’’چیخ‘‘ اور ’’ذلتوں کے اسیر‘‘ کے عنوان سے دو ناول بھی ان کے ادبی سرمائے کا حصہ ہیں۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گیتانجلی شری کے شہرۂ آفاق ناول ’’ریت سمادھی‘‘ کے علاوہ اڈونس، محمود درویش اور پابلو نیرودا کی منتخب نظموں کو اُردو زبان میں منتقل کیا ہے۔
ان کا تعلق بہاول نگر سے ہے لیکن پیدا خیرپور ٹامیوالی میں ہوئے۔ ابتدائی بچپن ریاستِ بہاولپور اور پنجاب میں گزرا، اور گیارہ برس کی عمر سے کراچی میں مقیم ہیں۔ 1974ء میں اُردو صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اُردو کے کئی اہم اخبارات سے وابستہ رہے۔ تاہم وہ اپنی صحافتی زندگی میں اُن چار روزناموں (’’قومی اخبار‘‘، ’’پبلک‘‘، ’’امروز‘‘ اور ’’کائنات‘‘)کو خاص اہمیت دیتے ہیں جن کے وہ بانی مدیر رہے۔ کراچی میں شام کی صحافت کو نئی جہت دینے اور اسے ایک صاف ستھری اور مہذب صحافتی روایت سے متعارف کرانے میں ان کا نمایاں کردار رہا۔ ان کے جاری کردہ اخبار کو خواتین ہاکرز تک فروخت کرنے لگیں، جو اُس دور میں ایک غیرمعمولی بات سمجھی جاتی تھی۔
سن 2000ء سے وہ اپنا بیشتر وقت لندن میں گزارتے ہیں۔ بی بی سی کی عالمی سروس سے ان کی وابستگی پندرہ برس تک رہی، جہاں سے وہ 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کے بقول لندن میں قیام نے انھیں ’’یولیسس‘‘ کو مسلسل پڑھنے، سمجھنے اور اس کے تہہ دار اسلوب پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔
انور سِن رائے کے نزدیک ان کے بعض تراجم کا فکری اور اسلوبیاتی رشتہ بھی یولیسس سے جا ملتا ہے۔ عربی شاعری میں اڈونس کی تجرباتی اور لسانی جدت کو بعض ناقدین جیمز جوائس کی فنی روایت سے جوڑتے ہیں، اگرچہ عوامی سطح پر محمود درویش زیادہ مقبول شاعر سمجھے جاتے ہیں۔
1976ء سے وہ ممتاز شاعرہ اور ادیبہ عذرا عباس کے شریکِ حیات ہیں۔ اب لندن اور کراچی میں رہتے ہیں اور سارا وقت پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں۔
