SAIF-UL-MALUK | PUNJABI | URDU | 2 VOLUMES | BOX SET سیف الملوک | پنجابی | اردو | دو جلدیں | باکس سیٹ
PKR: 9,000/- 6,300/-
Author: MIYAN MUHAMMAD BAKHSH
Translator: ANWAR MASOOD
Binding: hardback
Pages: 1592
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-706-7
Categories: POETRY PUNJABI LITERATURE TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 25 August 2026
پنجابی کے عظیم صوفی شعرا میں میاں محمد بخشؒ کا مقام بہت ممتاز ہے۔ اُن کی مثنوی ’’سفرالعشق‘‘، جو سیف الملوک کے نام سے معروف ہے، دلوں کی خشک کھیتیوں پر بارانِ نُور کا اثر رکھتی ہے۔ اُن کی پُرسوز لَے نے ایک مدّت سے ایک دُنیا کو مسحور کر رکھا ہے، جو قبولِ خاطر میاں صاحب کے لطفِ سخن کو ملا ہے، اُس کی مثال نہیں ملتی۔
سیف الملوک کی اشاعت سے پہلے پنجاب میں واعظینِ کرام منبر پر اپنی تقریروں کو رومی، سعدی، حافظ اور جامی کے اشعار سے سجایا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ میاں صاحب کے اشعار نے ان اُستادانِ سخن کے کلام کی جگہ لے لی۔ یہ بہت بڑا شعری اعجاز ہے کہ ایک شخص اپنی عارفانہ پنجابی شاعری سے فارسی کے ایسے مشاہیر شعرا کا قائم مقام بن جائے۔
مثنوی سیف الملوک آپ نے ایک سال کی مدّت اور 33 برس کی عمر میں لکھی۔ یہ مثنوی تقریباً دس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ جب اس عظیم عارفانہ کتاب کے ترجمے کا کام مجھے سونپا گیا تو گوناگوں دشواریوں کے پیشِ نظر میں نے تامل کا اظہار کیا، لیکن صوفی شعرا کے کلام کے ترجمے کی کمیٹی کے ارکان بالخصوص جناب احمد ندیم قاسمی اور برادرم امجد اسلام امجد کے پُرخلوص اصرار کے آگے میرا مائل بہ معذرت تامل دم توڑ گیا۔ کام کا آغاز کیا تو معلوم ہوا کہ کام میرے اندازے سے بھی زیادہ دشوار ہے۔
قارئینِ کرام! یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ سیف الملوک کے اُردو ترجمہ کا یہ کام حرفِ آخر ہے۔ انسانی کوششیں کوتاہیوں سے مبرا نہیں ہوتیں اور تحقیقی کاوشیں دھندلاہٹوں کو دُور کرتی رہتی ہیں۔ خوب سے خوب تر کی گنجائشیں ہمیشہ موجود رہتی ہیں، البتہ یہ ضرور عرض کروں گا کہ یہ ترجمہ مستقبل کے مترجمین کے لیے کچھ سہولت ضرور فراہم کرے گا۔ میں نے بہت پہلے میاں صاحب کی عظمت کو سلام کرنے کے لیے پنجابی میں ایک نظم لکھی تھی جس کا آخری مصرع یہ تھا...
اِس درگاہوں حضرت صاحب میں نئیں خالی جاناں
یہ کام جو مجھے تفویض کیا گیا میں یہی سمجھتا ہوں کہ میری عرضداشت میاں صاحب کے دربار میں قبول کر لی گئی تھی۔ سیف الملوک جیسی عظیم مثنوی کے سلسلے میں یہ معمولی سی خدمت جو میں کر پایا ہوں میرے لیے باعثِ عزّ و شرف ہے۔
(انور مسعود)
پنجاب کی لوک داستانوں میں یوں تو ایک سے ایک بڑھ کر ہے مگر کھڑی شریف کے میاں محمد بخش نے ’’سیف الملوک‘‘ کی صورت میں اس روایت کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔ میاں صاحب نے 1907ء میں وفات پائی اور اس اعتبار سے وہ پنجاب کے صوفی شعرا کی خوبصورت روایت کے آخری شاعر ٹھہرتے ہیں۔
میاں صاحب کی شخصیت اور خصوصیات کلام کے بارے میں اس کتاب کے مترجم پروفیسر انور مسعود نے اپنے ابتدائیے میں بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے سو تکرار سے گریز کرتے ہوئے میں صرف اتنا کہوں گا کہ شاعری کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ ایک بہت مشکل عمل ہے اور اس کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جو دونوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ شعر فہمی کا فطری ملکہ بھی رکھتا ہو۔ انور مسعود نہ صرف اس کسوٹی پر پورا اترتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عہد حاضر کے بہترین شعرا میں سے بھی ہیں اور میاں محمد بخش سے ان کی عقیدت کا یہ عالم ہے کہ انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے کے آغاز میں حمد و نعت کے بعد میاں صاحب کے بارے میں ایک بہت خوبصورت نظم لکھی ہے۔
یوں تو ہمارے تمام صوفی اور کلاسیکی شعرا کا کلام خاص و عام کے حافظے میں موجود ہے اور لوگ اسے ساز و آواز کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی اپنی محفلوں میں گاتے اور پڑھتے ہیں لیکن میاں محمد کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ ان کے بہت سے شعر اور مصرعے اُردو کی تحریروں میں بھی جا بجا استعمال ہوتے ہیں اور پنجابی نہ جاننے والے احباب بھی ان سے یکساں طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ اُردو ترجمے کے بعد اس کے قارئین کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا اور اُردو کے ساتھ پاکستان کی دوسری بڑی زبانوں کے ارتباط کی بھی ایک صورت پیدا ہو جائے گی جو قومی یک جہتی کے عمل کو نہ صرف تیز تر کرے گی بلکہ اُردو زبان کو کچھ ایسے رنگوں اور ذائقوں سے بھی آشنا کرے گی جس سے اب تک اس کا دامن خالی تھا۔
(امجد اسلام امجد)
