CHENGEZ KHAN چنگیز خان
PKR: 950/- 475/-
Author: HAROLD LAMB
Translator: SYED ZEESHAN NIZAMI
Binding: hardback
Pages: 272
ISBN: 978-969-662-187-4
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
Author Biography:
افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی منظر نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (Harold Albert Lamb) یکم ستمبر 1892ء کو الپائن، نیوجرسی، امریکا میں پیدا ہوئے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی ہی سے انھیں مشرق اور مشرقِ قریب کی تاریخ، روایات اور تہذیب کے مطالعے سے گہری دل چسپی تھی۔ 1916ء میں انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ مشرقی اقوام کی تاریخ و تہذیب کے اسی مطالعے اور تحقیق سے اخذ کیے گئے ان کے ابتدائی افسانے رسالہ Adventure میں شائع ہوئے۔ اس رسالے کے مدیر آرتھر سلیون ہافمین، جنھوں نے لیم کی صلاحیت کو سب سے پہلے پہچانا، ان کے بارے میں کہا، ’’پہلے وہ عالم ہیں، اس کے بعد عمدہ کہانی کار!‘‘ ہافمین نے ان کی قوتِ تخیل، جوش و جذبے اور مشکلات کے سامنے ڈٹے رہنے کے عزم کو بھی ہمیشہ سراہا۔ ہیرلڈ لیم کو بدیسی زبانوں سے غیرمعمولی شغف تھا۔ وہ فرانسیسی، لاطینی، چینی، فارسی اور عربی سے واقف تھے اور اپنی تحریروں میں استعمال ہونے والا بیشتر حوالہ جاتی مواد خود تلاش اور جمع کرتے تھے۔ اسی وسیع مطالعے نے ان کی تاریخی تحریروں کو ایک خاص استناد عطا کیا۔ 1927ء میں لیم نے چنگیز خان کی سوانح عمری لکھی۔ اس کتاب کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد اپنی توجہ بڑی حد تک افسانہ نگاری سے ہٹا کر تاریخ اور سوانح نگاری کی طرف مرکوز کر دی۔ اپنی وفات تک وہ متعدد سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر چکے تھے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب The Crusades کی کامیابی سے متاثر ہو کر معروف فلم ساز Cecil B. DeMille نے انھیں صلیبی جنگوں سے متعلق اپنی فلم کے لیے مشیرِ تاریخ مقرر کیا۔ بعدازاں لیم نے کئی دوسری فلموں کے لیے بھی منظرنامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ ہیرلڈ لیم کی نثر سادہ، رواں اور اپنے ہم عصر مصنّفین سے نمایاں طور پر مختلف تھی۔ ان کی کہانیاں گہری تاریخی تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور ان میں اکثر ایسے حقیقی تاریخی کردار سامنے آتے تھے جو اُن کے مغربی قارئین کے لیے نسبتاً اجنبی اور انوکھے ہوتے تھے۔ تاریخ کو خشک واقعات کے بجائے جیتی جاگتی انسانی داستان میں ڈھال دینا اُن کی تحریر کا ایک نمایاں وصف تھا۔ ہیرلڈ لیم 9 اپریل 1962ء کو روچیسٹر، نیویارک میں وفات پا گئے، تاہم تاریخ کو داستان کی دل کشی کے ساتھ پیش کرنے والی ان کی تخلیقات آج بھی انھیں مقبول تاریخی ادب کے ممتاز مصنّفین میں جگہ دیتی ہیں۔
سات سو سال پہلے ایک خانہ بدوش شکاری‘ چرواہے‘ ان پڑھ‘ وحشی چنگیز خان نے طاقت کے بل بوتے پر جو خونریزی مچائی وہ تاریخ میں رقم ہوگئی۔ طاقت‘ وحشت‘ بربریت اور جنون کا نشان چنگیز خان تھا۔ اس نے اپنے وحشی جنگجوئوں کے لشکر کے ساتھ دل کھول کر جبر و وحشت کا وہ بازار گرم کیا جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما گئی۔اس کا لائو لشکر جہاں سے گزرتا تباہی مچا دیتا۔بعد میں صرف بھوکے گدھ اور بھیڑئیے وغیرہ انسانی لاشوں کو بھنبھوڑتے نظر آتے۔ اس نے اپنے وقت کی تین بڑی سلطنتوں کو شکست دے کر اپنے آپ کو منوا لیا۔ اس کے پاس طاقت تھی جو خود قانون کا درجہ رکھتی ہے۔طاقتور کسی کو جواب دہ نہیں ہوتی۔ (۸۴) چوراسی لاکھ انسانوں کا سفاک قاتل زمانے بھر کی نفرتیں اکٹھی کرتا رہا۔ جب مرا تو اس کے بیٹے نے ایک ہزار لوگوں کے ساتھ جا کر نامعلوم مقام پر دفن کر دیا اور فارغ ہو کر جتنے لوگ ساتھ آئے تھے ان کو قتل کرا دیا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے اور کوئی چنگیز خان کی لاش کی بے حرمتی نہ کر سکے۔ یہ نفرتوں کی انتہا تھی۔بربریت اور سفاکی کی یہ داستان ہیرلڈ لیم نے رقم کی اور اس کا ترجمہ سید ذیشان نظامی نے کیا ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک انہوں نے اپنے قلم کی گرفت مضبوط رکھی، تحریر بھی سادگی کے ساتھ ساتھ اپنے اندر ایک فسوں یا جادو سمائے ہوئے ہے۔تاریخ کا کوئی گوشہ ان کی نظر سے اوجھل نہیں ہوا۔ قاری کہیں بھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوتا بلکہ آگے اور آگے پڑھنے کا تجسس برقرار رہتا ہے۔ بک کارنر والوں نے کتاب پر بہت محنت کی ہے۔نایاب تصاویر سے کتاب کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ کتاب کو بائیس (۲۲)ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ خوبصورت ایڈیشن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ چنگیز خان کی ساری زندگی، اس کی وحشت، بربریت اور فتوحات آپ کے سامنے فلم کی طرح سامنے آتی جائیں گی۔کتاب کی خوبصورتی کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمت چنداں زیادہ نہیں۔ اسے خریدئیے، پڑھیے اور اپنی لائبریری کی زینت بنائیے۔ (صغیرہ بانو شیریں)
Reviews
ANEES-UR-REHMAN (PIR MAHAL)
Aryan tariq (Lucky cement factory dara pezu)
Yasir Ispawoo (Islamabad)
I've read this Book. it's such an amazing and informative...
Asim khan (Thall)
