Sultan Muhammad Fateh (4th Edition) - Buy Online | Book Corner

SULTAN MUHAMMAD FATEH (4TH EDITION) سلطان محمد فاتح

Inside the book
SULTAN MUHAMMAD FATEH (4TH EDITION)

PKR:   950/- 475/-

Author: DR. MUHAMMAD MUSTAFA SAFWAT
Translator: SHEIKH MUHAMMAD AHMED PANIPATI
Binding: hardback
Pages: 232
ISBN: 978-969-9396-27-4
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
★★★★★
★★★★★

دُنیا کی ان عظیم شخصیات میں جنھوں نے اپنے شاندار کارناموں کی بدولت تاریخِ عالم پر گہرے اور لازوال اثرات مرتب کیے ہیں، ایک خاص اور اہم شخصیت سلطان محمد ثانی فاتحِ قسطنطنیہ کی بھی ہے۔ اسلامی اور عالمی تاریخ کا رُخ بدل کر اس شخص نے جو محیر العقول کارنامہ سر انجام دیا، ترکوں کی کمزور سلطنت کو جس طرح مضبوط بنیادوں پر قائم کیا، شدید مشکلات اور مسیحی طاقتوں کی زبردست مزاحمت کے باوجود جس طرح اسلام کے قدم یورپ میں جما دیے، انھیں تاریخ کا کوئی طالب علم فراموش نہیں کر سکتا۔ ایسے نازک وقت میں جبکہ ایک طرف مغربی یورپ میں صلیبیوں کی متحدہ کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے قدم آگے بڑھنے سے رُک چکے تھے اور دوسری طرف مشرقی یورپ میں بازنطینی سلطنت سدِ سکندری کی طرح مسلمانوں کا راستہ روکے کھڑی تھی، اسی مردِ مجاہد کی جراَت تھی کہ اس نے ناقابلِ عبور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس رُومی سلطنت سے ٹکر لی اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کو، جو اُس وقت مشرقی یورپ کا سب سے بڑا اور مستحکم ترین شہر تھا، جس پر مسلمان گزشتہ آٹھ سو سال کی کوششوں کے باوجود قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے، اپنی اولو العزمانہ جد و جہد کی بدولت فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا اقتدار خاک میں ملا دیا۔ سلطان محمد ثانی کا عہد عثمانی ترکوں کا سب سے زیادہ طاقتور عہد شمار ہوتا ہے۔ اسی کے عہد میں سلطنت کا نظم و نسق مستحکم بنیادوں پر قائم ہوا اور دورِ جدید کی ضروریات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے نئے قوانین کی تشکیل کا کام شروع ہوا۔ ایشیائے کوچک اور یورپ میں روزافزوں فتوحات کے باعث اس نوزائیدہ سلطنت کا رعب اور دبدبہ ہمسایہ سلطنتوں پر قائم ہو گیا۔ چونکہ سلطان محمد فاتح کو فنونِ جنگ کے علاوہ ادب اور شعر و شاعری سے بھی دلچسپی تھی اس لیے شاہی سرپرستی کی بدولت ان علوم و فنون کو وہاں خوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور سلطنتِعثمانیہ علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کا گہوارہ بن گئی۔ اس کتاب میں اسی باہمت اور اولوالعزم شخص کے انہی محیرالعقول کارناموں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ (شیخ محمد احمد پانی پتی)

اگر ہم مسلمانوں کے اس عہد کی تاریخ کا مطالعہ کریں، جب وہ صلیبی جنگوں سے دوچار تھے، فتوحات کرتے ہوئے دُنیا بھر میں پھیل رہے تھے اور ملکوںملکوں اسلام کا پرچم لہرا رہے تھے تو ایسی کئی شخصیات اورہستیوں کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے نئی تاریخ رقم کی۔ ان عسکری ماہرین سپہ سالاروںنے اسلام کا پیغام دُور دُور تک پھیلا دیا۔ ایسی ہی تاریخی شخصیات میں سے ایک سلطان محمدفاتح تھے، جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا۔ جس کی فتح کے بعد اس کا نام ’’اسلام بول‘‘ رکھا گیا تھا اور اب استنبول کے نام سے معروف ہے۔ یہ شہر 330ء سے 395ء تک رُومی سلطنت کے زیرنگیں رہا اور پھر 395ء سے 1453ء تک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت رہا، جو اسے ’’نوواروما‘‘ کہتے تھے۔ یہ شہر آج بھی یورپ اور ایشیا کے سنگم پر موجود ہے اور اب ترکی کا دارالحکومت ہے، جو آبنائے باسفورس پر واقع ہے۔ شہر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے اور ایک عظیم الشان پُل دونوں حصوں میں آنے جانے کا ذریعہ ہے۔ تاریخ میں درج ہے کہ استنبول سلطان محمدفاتح نے 1453ء میں فتح کیا تھا، جو بعد میں 470برس تک سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا اور 1953ء میں مصطفی کمال اتاترک نے جدید ترکی یا ترک جمہوریہ کا دارالحکومت بنا کر اس کا نام قسطنطنیہ سے بدل کے استنبول رکھ دیا۔ یہ کتاب اسی عظیم الشان شہر کی فتح کی داستان اور تاریخ بیان کرتی ہے۔ یہ ایک عربی مصنف محمدمصطفی صفوت کی کتاب ہے، جس کا عربی نام ’’فتح القسطنطنیہ و سیرت السلطان محمدالفاتح‘‘ ہے، جس کا اُردو ترجمہ شیخ محمداحمدپانی پتی نے کیا ہے۔ ناشر نے کتاب میں تاریخی تصاویر بھی شامل کی ہیں۔ خاص طور پر استنبول کی تاریخی عظیم الشان مسجد کی تصاویر دی ہیں، جو ’’ایاصوفیہ‘‘ یا سینٹ صوفیہ کے نام سے مشہور ہے اور اپنے فن تعمیر اور تزئین و آرائش میں اپنی جگہ مثالی حیثیت کی مالک ہے۔ سلطان محمدفاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے بعد اس میں مزید اضافے اور نقش و نگار کرائے تھے اور آج کل یہ عجائب خانہ یا میوزیم ہے، جہاں بہت سے تاریخی آثار موجود ہیں۔ خوش قسمتی سے مجھے بھی 1973ء میں اسے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا تھا، جہاں حضورنبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے تبرکات رکھے ہوئے ہیں، جن میں آپﷺ کا موئے مبارک اور نقش پا مبارک بھی ہے اور دیگر تبرکات و آثار کے علاوہ قرآن مجید کا وہ نسخہ بھی رکھا ہوا ہے، جس کی تلاوت کرتے ہوئے حضرت عثمان غنی شہید ہوئے تھے۔ واقعی یہ مسجد استنبول شہر کا جھومر ہے جو شہر کے چاروں سے دکھائی دیتی ہے۔ (عین شین)

Reviews

M

Muhammad Usama Bin Saleh (Lahore)


RELATED BOOKS