ALLAH MIYAN KA KAARKHANA اللہ میاں کا کارخانہ
PKR: 1,500/- 1,050/-
Author: MOHSIN KHAN
Binding: hardback
Pages: 310
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-666-4
Categories: NOVEL
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 10 March 2026
میں تو بھول ہی گیا تھا کہ میں بھی کبھی بچہ تھا!
’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ پڑھا تو یاد آیا کہ کبھی میں بھی اپنی سہمی سہمی آنکھوں سے اُس عجیب کارخانے کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا! میں بھی طرح طرح کے سوالات کیا کرتا تھا! کبھی خود سے اور کبھی دوسروں سے۔ میں بھی یہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کون کر رہا ہے؟ ایک پیڑ کے سارے پھول ایک جیسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ خوشبو کیا چیز ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ جب طوطا بول سکتا ہے تو کتا کیوں نہیں بولتا؟ اگر اللہ سب کچھ دیکھتا ہے تو کہاں سے دیکھتا ہے؟ وہ کہاں چھپا رہتا ہے کہ ہمیں تو دیکھ سکتا ہے مگر ہم اسے نہیں دیکھ سکتے ہیں؟
’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ کا وہ بچہ جو حادثات، واقعات اور سوالات کے جنگل میں پھنس گیا ہے اور باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے، اکیلا نہیں ہے! وہ بچہ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ہے۔ وقت نے اس سے اس کی معصومیت چُرا لی ہے، مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہ مایوس نہیں ہے، اسے یقین ہے کہ ایک دن اس کو سب کچھ مل جائے گا، وہ بھی جو اُس سے چھین لیا گیا ہے اور وہ بھی جو اُس کا حق ہے۔ خواہش اور کوشش کا یہ سفر کتنا لمبا ہے، کسے معلوم ہے؟
میرے خیال میں برادرِ محترم محسن خان کا ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ ایک ناول نہیں ہے، بلکہ ایک کیفیت ہے جس کا لطف اسے محسوس کرنے میں ہے، بیان کرنے میں نہیں۔
(جاوید صدیقی)
پکاسو نے ایک بار اپنی پینٹنگز کے حوالے سے کہا تھا کہ میں دنیا کو بچوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ محسن خان کا ناول ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ مجھے ایک ایسے البم کی طرح نظر آتا ہے جس کی ہر تصویر کو ایک بچے کی آنکھ نے اپنے معصوم آنسوؤں سے رنگا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں اُردو میں جو ناول منظرِ عام پر آئے ہیں، ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اُن سب میں ایک منفرد اور ممتاز مقام کا حامل ہے۔ خدا، کا ئنات اور انسان کے باہمی رشتوں سے بننے والی تکون کو محسن خان نے جس سادگی مگر فنکاری کے ساتھ بیان کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ناول کے بیانیہ میں بالائی سطح پر بغیر کسی مابعد الطبیعیاتی ڈسکورس کا پرچار کیے، گہرے مابعد الطبیعیاتی اور اخلاقی سوالات، ناول کے متن میں اسی طرح سامنے آ جاتے ہیں جیسے انکھوئے سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ میں محسن خان کی اس بہترین تخلیق کے لیے اُنھیں دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
(خالد جاوید)
قاری کی اُنگلی پکڑ کے اُسے ایسی مہارت اور ہنرمندی سے اُس عالمِ حیرت میں لے جانا جسے ہم بچپن کہتے ہیں کہ وہ انگشتِ بدنداں وہاں یکسر کھو جائے اور واپس آنے کا نام نہ لے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو کوئی ڈکنز، مارک ٹوین، ہارپر لی، الطاف فاطمہ یا جے ڈی سالنجر جیسا قلم کارِ ساحر نُما ہی کر پاتا ہے۔ ایک بچے کے زاویۂ نظر سے لکھے محسن خان کے اس دل موہ لینے والے ناول میں ہمیں ایسی ہی ساحری نظر آتی ہے۔ معصومیت کے دیس میں جہاں ہمیں تجسّس، انکشاف، برجستگی اور معنویت کے بہت سے پہلو ملتے ہیں وہیں اس کی فضا میں قلابازیاں کھاتی رنگین پتنگوں کا چلبلاپن، فروری کے نئے کھلے پھولوں کی تازگی، اور کھلنڈرے بچوں کی کھلکھلاہٹ نمایاں ہے۔ زندگی اکثر اپنا مکھوٹا اتار کر ایک سے ایک بھیانک چہرہ دکھاتی ہے۔ لیکن اللہ میاں کے کارخانے کی گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے، اس کے المیوں اور محرومیوں سے سمجھوتا کرتے کرتے، اور اس میں خوشگوار لمحوں کو جاتی پگڈنڈیوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کم سن جبران ہم بالغوں کو جینے کے بہت سے گُر سکھاتا ہے۔ اور تعصب، ریاکاری اور بغض سے پاک ایک روشن خیال زندگی گزارنے کی ہمت دیتا ہے۔
(اسامہ صدیق)
