Aatish-e-Rafta

AATISH-E-RAFTA آتش رفتہ

AATISH-E-RAFTA

PKR:   950/- 665/-

Author: JAMILA HASHMI
Binding: hardback
Pages: 128
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-665-7
Categories: NOVEL URDU CLASSICS
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

جمیلہ ہاشمی 17 جنوری 1929ء کو گوجرہ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کی والدہ تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ بعدازاں وہ واپس آبائی گھر امرتسر چلی گئیں، جمیلہ ہاشمی کا بچپن یہیں گزرا۔ انھوں نے ہوشیار پور سے میٹرک کیا جس کے بعد 1947ء میں ان کا خاندان نقل مکانی کر کے ساہیوال آگیا۔ 1951ء میں ایف سی کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصہ تدریس کے شعبہ سے منسلک رہیں۔ 1959ء میں ان کی شادی خانقاہ محکم دین سیرانی، بہاولپور کے سجادہ نشین سردار احمد اویسی سے ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی ہوئی جنھیں آج ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے نام سے سبھی جانتے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز کہانی کار اور ناول نگار تھیں۔ وہ اپنے پہلے ناول ’’تلاشِ بہاراں‘‘ کے ساتھ منظرِعام پر آئیں اور اس نے سب کو چونکا دیا۔ اس کہانی میں حقوقِ نسواں کو موضوع بنا کر برصغیر میں عورت پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گئی۔ 1961ء میں اسے آدم جی انعام ملا۔ یکے بعد دیگرے ان کے دو ناول چھپے، ’’آتشِ رفتہ‘‘ مشرقی پنجاب اور سکھ ثقافت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور ’’روہی‘‘ چولستان کے صحرا کی زندگی پر ایک دلکش کہانی ہے۔ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘، ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ اور ’’رنگ بھوم‘‘ افسانوی مجموعے ہیں۔ ان افسانوں میں ان کے ہاں موضوع اور کہانیوں کی فضا تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں عصرِ حاضر کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کو موضوع بنایا گیا اور بالخصوص نئی نسل کے ذہنی اور جذباتی مسائل کی عکاسی کی گئی۔ ’’چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو‘‘ میں قرۃ العین طاہرہ اور ’’دشتِ سُوس‘‘ میں حسین بن منصور حلّاج جیسے تاریخی کرداروں کے گرد اپنے فسوں گر قلم سے سحر کا جالا بُنا اور مؤخرالذکر کو ایک غنائیہ قرار دیا۔ جمیلہ ہاشمی کا انتقال 10 جنوری 1988ء کو لاہور میں ہوا اور خانقاہ شریف، نزد سمہ سٹہ، ضلع بہاولپور میں سپردِ خاک ہوئیں۔

’’آتشِ رفتہ‘‘ اُردو کی ممتاز ناول نگار جمیلہ ہاشمی کا ایک اہم ناول ہے۔ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی کہانی جو چار نسلوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی کہانی ہے لیکن علامتوں کے آئینوں میں معانی عکس در عکس نمودار ہوتے ہیں، یوں ’’آتشِ رفتہ‘‘ کی کہانی ایک عام کہانی نہیں رہتی، بلکہ ایک خاص فکری متن میں بدل جاتی ہے۔ ’’آتشِ رفتہ‘‘ ایک ایسی آگ ہے جو بظاہر تو بجھ چکی ہے مگر اس کی تپش اور حرارت ایک اضطراب کی شکل میں باقی ہے۔ آتشِ رفتہ کی علامت ایک طرف تو انفرادی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں کردار اپنی گزری ہوئی زندگی کے واقعات کو یاد کرتے ہیں اور دوسری سطح پر یہ ایک مٹتی ہوئی تہذیب کی داستان ہے جس کی راکھ وقت کے آتش دان میں ابھی تک سلگ رہی ہے۔ ناول کی ڈکشن میں ایک خاص طرح کی نغمگی اور لطافت ہے جو جمیلہ ہاشمی کے اسلوب کا اختصاص ہے۔ ناول کے امیجز، تشبیہیں اور استعارے پنجاب کی دیہی زندگی کے گرد و پیش سے کشید کیے گئے ہیں جو کہانی کی تفہیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مجموعی طور پر ’’آتشِ رفتہ‘‘ ماضی کے جھٹپٹے میں انفرادی اور اجتماعی یادداشت اور شناخت کی بازیافت کی کہانی ہے جسے جمیلہ ہاشمی کے سحر انگیز اسلوب نے اَمر بنا دیا ہے۔
— شاہد صدیقی
ناول ’’آدھے ادھورے خواب‘‘کے مصنف

---

پیری کی اندھیری کوٹھری میں بیٹھا، یادِ ماضی کا اسیر اور احساسِ زیاں میں مبتلا دلدار سنگھ ہر روز پُرانی دشمنیوں، نفرتوں اور خونی انتقاموں کو پھر سے جھیلتا ہے۔ لیکن ان الم ناک یادوں کے نیلگوں دھندلکوں میں دیپو کی محبت کی نارنجی چنگاریاں اب بھی اس کے دل میں سلگتی ہیں۔ اُسے گرماتی ہیں۔ یہ احساس دلاتی ہیں کہ محبت اَمر ہے۔ محبت فاتح عالم ہے۔ ان کڑی گھڑیوں میں یہ دل پذیر یادیں ہی اُس کی مونس و غم خوار ہیں۔ محبت، نفرت اور انتقام کے ازلی جذبات کوایک باکمال حساسیت سے کھوجتے اس شاہکار ناول کی نثر، منظر کشی اور استعارے دیہی پنجاب کے حسین رنگوں، آوازوں، رُتوں اور ثقافتی رعنائیوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ جمیلہ ہاشمی کا یہ شہ پارہ میں نے پہلی مرتبہ اپنے لڑکپن میں پڑھا۔ لیکن اس کی سماں بندی، نغمگی، سوز، اُداسی، ناسٹیلجیا اور آہنگ اتنے منفرد اور مسحورکن ہیں کہ وہ پہلی پڑھنت میرے دل پہ نقش ہے۔ اس آتشِ رفتہ کی حرارت اور چانن میں آج بھی اُتنی ہی شدت ہے۔
— اُسامہ صدیق
ناول ’’چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں‘‘ کے مصنف

RELATED BOOKS