Bazar Ka But

BAZAR KA BUT بازار کا بت

BAZAR KA BUT

PKR:   1,200/- 840/-

Author: TAHIRA IQBAL
Binding: hardback
Pages: 190
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-660-2
Categories: SHORT STORIES
Publisher: BOOK CORNER

اُردو افسانہ نگاری کے دورِ زرّیں میں بھی مجھے راجندر سنگھ بیدی سے بڑھ کر مشاہدے کی سچائی، گہرائی اور ہمہ گیری کم ہی کہیں ملی، مگر طاہرہ اقبال کے چند افسانے پڑھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا ہے کہ گہرے اور کھرے مشاہدے کے ذریعے اپنے افسانے کو مؤثر بنانے کا سلسلہ بیدی پر ختم نہیں ہو گیا تھا۔
(احمد ندیم قاسمی)

اک بے خوفی اور اعتماد طاہرہ کی تحریروں میں برابر ملتا ہے۔ شہر کے مڈل کلاس لوگوں کی جھجک ان کی کہانی Grow کرنے سے نہیں روک سکتی۔ ان کے توانا بیانیے کے آگے کسی بھی طرح کی یہ جعلی Moralist ٹک نہیں سکتی، کیونکہ طاہرہ نے جو کچھ جتنا بھیانک دیکھا اور سمجھا وہ اپنا بے محابا اظہار چاہتا ہے۔ اگر طاہرہ اسپینش زبان میں لکھ رہی ہوتیں اور وسطی امریکی ریاستوں کے براعظم جنوبی امریکا کے پٹے ہوئے لوگوں کی بِپتا بیان کرتیں تو اس وقت دُنیا کی درجنوں زبانوں میں یہ کہانیاں ترجمہ ہو چکی ہوتیں۔
( اسد محمد خان)

افسانے کا کمال یہ ہے کہ پورا ماحول جس قدر بھیانک ہے اس کے خلاف پیدا ہونے والا تاثر ایک سوال انگیز سرّیت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور یہ ایک بڑی خوبی ہے جس نے طاہرہ اقبال کو قابلِ داد افسانہ نگار بنا دیا ہے۔
(محمد علی صدیقی)

طاہرہ اقبال واقعتاً ایک خلاق افسانہ نگار ہیں۔ اُردو فکشن کا شاندار مستقبل جن چند افسانہ نگاروں کے فنی اور فکری کمالات پر منحصر ہے، اُن میں طاہرہ اقبال سرِفہرست ہیں۔ مبدائے فیاض سے انھیں بےپناہ تخلیقی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ اُن کی نگاہ باریک بیں ہے، مشاہدہ تیز ہے اور مطالعہ گہرا ہے۔
(فتح محمد ملک)

RELATED BOOKS