Irfan Bhai Aur Main - Buy Online | Book Corner

IRFAN BHAI AUR MAIN عرفان بھائی اور میں

IRFAN BHAI AUR MAIN

PKR:   1,800/- 1,260/-

Author: SHAHID SIDDIQUI
Binding: hardback
Pages: 271
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-718-0
Categories: BIOGRAPHY MEMOIR
Publisher: BOOK CORNER

ادیب، شاعر، صحافی، معلم، سیاست دان، وزیر۔ نجیب الطرفین خانوادے میں پیدا ہونے کا شرف اپنی جگہ، عرفان صدیقی بہ ہر اعتبار ایک نادرِ روزگار شخص تھے۔ یہ ان کے جانے کے دن نہیں تھے۔ پر معلوم نہیں آسماں نشیں کو ایسے باکمال، بے مثل لوگوں کو پاس بلانے کی ایسی عجلت کیوں رہتی ہے۔ گھر کی گواہی سب سے معتبر ہوتی ہے۔ عرفان صدیقی کی داستانِ حیات پر مشتمل یہ کتاب ان کے برادرِ خُرد ڈاکٹر شاہد صدیقی کی نوشتہ ہے۔ خود ڈاکٹر صاحب کئی کتابوں کے مصنف ہیں، ان کا شمار ادب، تاریخ اور تعلیم کے معدودے چند نام ور افراد میں ہوتا ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ ان کی یہ تازہ ترین تحریر خاص و عام خصوصاً نوجوانوں کے لیے چراغِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور یہ تو ابتدا ہے، عرفان صدیقی کی ذاتِ والا صفات پر بہت کچھ لکھا جائے گا، لکھا جانا چاہیے، کہ جست جوئے علم، جہدِ پیہم، عزمِ مصمم اور ایثار پیشگی کی خوبیاں ان پر تمام تھیں۔
شَکیل عادل زادہ

عرفان صدیقی ایک جامع الصفات شخصیت، ایک صاحب ِعلم، باوقار اور ہر دل عزیز استاد، نوائے وقت اور جنگ جیسے قومی اخباروں کے باخبر اور صاحب طرز کالم نگار ،نقشِ خیال کے خالق، حرمین شریفین کے بے مثال سفر نامے مکہ مدینہ کےسعادت نگار، اپنے پُرماجرا زمانے کے نامور رفتگاں کے خاکوں میں مثالیوں کی یادوں کے محافظ، دل و دنیا کے تصادم سے ظہور پانے والی شعری دستاویز ’’گریز پا موسموں کی خو شبو‘‘ کے دلآویز شاعر، متعدد نثری کتابوں کی میراث وقت کے سپرد کرنےوالے قلم کار، ہتھکڑی کی تادیب وجبر کے باوجود اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے والے۔ مسلم لیگ( ن) سے وابستگی، ایوانِ صدارت کی ترجمانی اور ایوانِ سیاست میں مصروف عملی زندگی ۔ میرے لیےوہ ایک مخلص، شفیق، مہربان، وفادار اورقابل اعتبار دوست ۔ میں ان کے لیے ہمیشہ دُعا گزار ہوں۔ ڈاکٹر شاہدصدیقی پاکستان کے جہانِ علم ودانش کے نامور سکالر اور تعلیم و تعلّم کے قومی اور بین الاقوامی منظر نامے کی بہت قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ باعثِ طمانیت و ستائش امر ہے کہ انھوں نے اپنے برادر ِ بزرگ کے احوال و آثار پر ایک جامع دستاویز مرتب کی ہے۔ پاکستانیت کے حوالے سے اہلِ وطن اس کتاب سے فیض یاب ہوں گے، مجھے اس کا یقین ہے۔
اِفتخار عارف

نوے کی دہائی کے وسط میں جب مَیں نے عرفان صدیقی کو پڑھنا شروع کیا تو وہ ہماری مفروضہ سیاسی لکیر کے دوسری طرف کھڑے تھے۔ وقت بدلا۔ 12 اکتوبر 1999ء کی رات ریاست نے بندوق اٹھا کر اپنا استمراری جرم دُہرایا، عرفان صدیقی لشکرِ مزاحمت کی صفوں میں تھے۔ ریاست کا جرم بہت سے رنگ بدلتا 2018ء تک آ پہنچا۔ وقت نے تب تک بغیر آہٹ کیے ہمیں بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔ 27جولائی 2019 ء کی صبح خبر آئی کہ کارندۂ سرکار نے عرفان صدیقی کو گرفتار کر لیا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ ملک کے بڑے اخبارات نے عرفان صدیقی کی تحریریں شائع کرنے سے انکار کر دیا ۔ میں نے کسی قدر جھجکتے ہوئے رابطہ کیا اور عرض کی کہ میرا پلیٹ فارم ان کے کالموں کے لیے حاضر ہے۔ انھوں نے کمال مہربانی سے اپنی تحریریں بھیجنا شروع کر دیں۔ اس دوران کچھ ملاقاتیں ہوئیں۔ مارچ2021 ء میں عرفان صاحب کا ایوانِ بالا میں ورود گدلی سیاست کی بدرو میں ٹھنڈے میٹھے دھارے کی نمود تھا۔ اس کم فہم درویش کے لیے عرفان صدیقی اب احترام کے بلند ترین زینوں پر ایستادہ ایک چھتنار پیڑ تھے۔ افسوس کہ نشاط کی یہ کیفیت وقفۂ مستعجل تھی۔ 10 نومبر 2025 ء کی رات یہ شاہ بلوط وقت کے دستِ سفاک کی نذر ہو گیا۔ بھائی عرفان صدیقی کی یاد اب ایک قدآور ہم وطن اور قابلِ احترام سیاست دان سے محرومی کا ملال ہے ۔ میں برادرِ عزیز ڈاکٹر شاہد صدیقی کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اپنی یادگاری تصنیف ’’عرفان بھائی اور مَیں‘‘ کے لیے اس رفتیدہ چھائوں کی شکر گزاری کا موقع عنایت کیا۔
وجاہت مسعود

شاہد صدیقی صاحب نے اپنے بھائی کی اور اپنی جو کہانی ہمیں سنائی ہے، اس میں نہ تو کوئی مبالغہ ہے، نہ افسانہ۔ پاکستان کی تاریخ ان لوگوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے غربت میں آنکھ کھولی اور اعلیٰ مناصب تک پہنچے، جرنیل، بیوروکریٹ اور سیاستدان بنے۔ مقام بنایا اور نام بھی کمایا، لیکن بہت کم ایسے ہیں جنھوں نے اپنی غربت کو یاد رکھا۔ اس پر فخر کرتے رہے اور نوجوانوں کو موٹیویٹ کرنے کا ذریعہ بنے۔ عرفان صدیقی اس صف میں نمایاں نہیں، نمایاں تر تھے۔ ان کی زندگی کی کہانی نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرے گی، اپنے آپ پر بھروسا کرنے اور محنت کے ذریعے مقام بنانے کا جذبہ جواں رکھے گی۔ ان کی داستانِ حیات ’’قومی ترانے‘‘ کی طرح ہے جو سننے والے کو اپنی نشست پر بیٹھنے نہیں دیتا، اٹھ کھڑا ہونے اور منزلِ مراد کی طرف قدم بڑھانے پر مجبور کرتا ہے۔ قوم، ملک، سلطنت، پائندہ تابندہ باد۔
مجیب الرحمٰن شامی

شاہد صدیقی نے ’’عرفان بھائی اور مَیں‘‘ کے نام سے عرفان صدیقی صاحب کے بارے میں اپنی یادداشتیں مرتب کی ہیں۔ یوں تو عرفان صا حب کے چاہنے والے بے شمار ہیں لیکن ان کے جاننے والے کم کم۔ اس کتاب سے عرفان صاحب کی شخصیت کے مختلف رنگ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ عرفان صدیقی بطور معلم، شاعر، ڈراما نگار، کالم نگار، سیاسی مبصر اور ایوانِ بالا میں پارلیمانی لیڈر۔ میرا عرفان صاحب سے خاص تعلقِ خاطر تھا۔ یادوں کا ایک خزانہ ہے جو ان دنوں کی یادگار ہے جو ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ گزارے تھے۔ برادرم شاہد صدیقی نے ہمیں عرفان صاحب کی شخصیت کے ان گوشوں سے روشناس کرایا ہے جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اپنی نادر معلومات اور دل نشیں اسلوب سے آپ کے دلوں میں گھر کر جائے گی۔
سینیٹر پرویز رشید

RELATED BOOKS