Khun-Rezi ki Khufiya Tarikh: Operation Gladio Se Israel Tak - Buy Online | Book Corner

KHUN-REZI KI KHUFIYA TARIKH: OPERATION GLADIO SE ISRAEL TAK خوں ریزی کی خفیہ تاریخ: آپریشن گلیڈیو سے اسرائیل تک

KHUN-REZI KI KHUFIYA TARIKH: OPERATION GLADIO SE ISRAEL TAK

PKR:   1,200/- 840/-

Author: DR MUJAHID KAMRAN
Binding: hardback
Pages: 208
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-724-1
Categories: HISTORY NONFICTION WAR WORLD WAR GEOPOLITICS
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

ڈاکٹر مجاہد کامران کی پیدائش 1951 میں صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم راولپنڈی کے سرسید سکول اور گورڈن کالج سے حاصل کی۔ 1971 میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ فزکس سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1972 میں اسی شعبے میں بطور لیکچرر کیریئر شروع کیا۔ 1979 میں برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ڈاکٹر مجاہد 1990 میں پروفیسر ہوئے اور 1995 میں انھیں شعبۂ فزکس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ 2004 تا 2007 وہ ڈین فیکلٹی آف سائنس رہے اور پھر جنوری 2008 تا دسمبر 2016 پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ یہ مسلسل اس عہدے پر فائز رہنے کا ریکارڈ ہے۔ 2021-2017 ڈاکٹر مجاہد یونیورسٹی آف لاہور کے سربراہ رہے ہیں۔ ستمبر 2023 سے وہ گرینڈ ایشین یونیورسٹی سیالکوٹ کے وائس چانسلر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مجاہد کو ان کی تحقیقی کاوشوں پر 1985 میں عبدالسلام پرائز، اور 1986 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے بہترین تحقیق پر اوّل انعام سے نوازا گیا۔ تعلیم کے میدان میں خدمات کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے انھیں 1999 میں پرائڈ آف پرفارمنس اور 2015 میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ وہ 60 سے زائد تحقیقی مقالات کے مصنف ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے شائع ہونے والے جرائد میں چھپے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف موضوعات پر 18 کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ’’جدید طبیعیات کے بانی‘‘ کو 2000 میں نیشنل بک کونسل کی طرف سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ 9/11 پر ان کی کتاب کو Amazon پر فائیو سٹار ریٹنگ حاصل ہے۔ ڈاکٹر مجاہد امریکا کی جارجیا یونیورسٹی میں 1988-89 سینئر فل رائٹ فیلو رہے ہیں۔ انھیں اٹلی کے عبدالسلام ICTP میں ایسوسی ایٹ اور سینئر ایسوسی ایٹ رہنے کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ وہ 2004-2001 سعودی عرب کی کنگ سعود یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے ہیں۔

عالمی سیاست کے پسِ پردہ کون سی قوتیں سرگرم ہیں؟ جنگوں، دہشت گردی، سیاسی قتل اور تخریب کاری کے واقعات کے پیچھے کن طاقتوں کے مفادات کار فرما ہیں؟ اور تاریخ کے اُن خونیں واقعات کی حقیقت کیا ہے جو سرکاری بیانیوں اور سیاسی مصلحتوں کی تہوں میں پوشیدہ رہ جاتے ہیں؟
’’خوں ریزی کی خفیہ تاریخ‘‘ میں ڈاکٹر مجاہد کامران تاریخ کے انہی تاریک اور پُراسرار گوشوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپریشن گلیڈیو کے تحت یورپ اور ترکی میں ہونے والی خفیہ کارروائیوں سے آغاز کرتے ہوئے وہ لاطینی امریکا اور افریقی نوآبادیات تک پھیلی ہوئی تخریب کاری اور خوں ریزی کا جائزہ لیتے ہیں۔ پھر گلیڈیو B کے تحت ’’اسلامی‘‘ دہشت گردی کے ذریعے وسطی ایشیا اور جنوب مغربی چین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور روس و چین کو کمزور کرنے کے مبینہ منصوبوں کو موضوع بناتے ہیں۔ یہاں سے بحث کا رُخ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور عالمی سیاست میں اسرائیل کے کردار کی جانب مڑتا ہے۔ ایپسٹین سکینڈل، خفیہ اداروں کے مبینہ روابط اور بلیک میلنگ کے پیچیدہ جال بھی مصنف کی تحقیق کا حصہ ہیں۔ کتاب کا اختتام ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں اور ان کے پسِ پردہ سیاسی محرکات کے تجزیے پر ہوتا ہے۔
یہ کتاب تاریخ کے جانے پہچانے واقعات کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش ہے؛ ایک ایسا بیانیہ جو مسلّمہ تصورات پر سوال اٹھاتا ہے، عالمی طاقتوں کے پسِ پردہ کارفرما مفادات کو بے نقاب کرتا ہے اور قاری کو تاریخ کے ظاہری چہرے سے آگے جھانکنے کی دعوت دیتا ہے۔

RELATED BOOKS