Changez Khan: Fatehe Aalam - Buy Online | Book Corner

CHANGEZ KHAN: FATEHE AALAM چنگیز خان: فاتح عالم

CHANGEZ KHAN: FATEHE AALAM

PKR:   1,500/- 900/-

Author: HAROLD LAMB
Translator: AZIZ AHMED
Binding: hardback
Pages: 214
ISBN: 978-969-662-720-3
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS NONFICTION
Publisher: BOOK CORNER
author-img
Author Biography:

افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی منظر نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (Harold Albert Lamb) یکم ستمبر 1892ء کو الپائن، نیوجرسی، امریکا میں پیدا ہوئے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی ہی سے انھیں مشرق اور مشرقِ قریب کی تاریخ، روایات اور تہذیب کے مطالعے سے گہری دل چسپی تھی۔ 1916ء میں انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ مشرقی اقوام کی تاریخ و تہذیب کے اسی مطالعے اور تحقیق سے اخذ کیے گئے ان کے ابتدائی افسانے رسالہ Adventure میں شائع ہوئے۔ اس رسالے کے مدیر آرتھر سلیون ہافمین، جنھوں نے لیم کی صلاحیت کو سب سے پہلے پہچانا، ان کے بارے میں کہا، ’’پہلے وہ عالم ہیں، اس کے بعد عمدہ کہانی کار!‘‘ ہافمین نے ان کی قوتِ تخیل، جوش و جذبے اور مشکلات کے سامنے ڈٹے رہنے کے عزم کو بھی ہمیشہ سراہا۔ ہیرلڈ لیم کو بدیسی زبانوں سے غیرمعمولی شغف تھا۔ وہ فرانسیسی، لاطینی، چینی، فارسی اور عربی سے واقف تھے اور اپنی تحریروں میں استعمال ہونے والا بیشتر حوالہ جاتی مواد خود تلاش اور جمع کرتے تھے۔ اسی وسیع مطالعے نے ان کی تاریخی تحریروں کو ایک خاص استناد عطا کیا۔ 1927ء میں لیم نے چنگیز خان کی سوانح عمری لکھی۔ اس کتاب کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد اپنی توجہ بڑی حد تک افسانہ نگاری سے ہٹا کر تاریخ اور سوانح نگاری کی طرف مرکوز کر دی۔ اپنی وفات تک وہ متعدد سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر چکے تھے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب The Crusades کی کامیابی سے متاثر ہو کر معروف فلم ساز Cecil B. DeMille نے انھیں صلیبی جنگوں سے متعلق اپنی فلم کے لیے مشیرِ تاریخ مقرر کیا۔ بعدازاں لیم نے کئی دوسری فلموں کے لیے بھی منظرنامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ ہیرلڈ لیم کی نثر سادہ، رواں اور اپنے ہم عصر مصنّفین سے نمایاں طور پر مختلف تھی۔ ان کی کہانیاں گہری تاریخی تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور ان میں اکثر ایسے حقیقی تاریخی کردار سامنے آتے تھے جو اُن کے مغربی قارئین کے لیے نسبتاً اجنبی اور انوکھے ہوتے تھے۔ تاریخ کو خشک واقعات کے بجائے جیتی جاگتی انسانی داستان میں ڈھال دینا اُن کی تحریر کا ایک نمایاں وصف تھا۔ ہیرلڈ لیم 9 اپریل 1962ء کو روچیسٹر، نیویارک میں وفات پا گئے، تاہم تاریخ کو داستان کی دل کشی کے ساتھ پیش کرنے والی ان کی تخلیقات آج بھی انھیں مقبول تاریخی ادب کے ممتاز مصنّفین میں جگہ دیتی ہیں۔

آج سے آٹھ سو برس پہلے ایک منگول جنگجو نے آدھی دنیا فتح کر لی تھی۔ لڑکپن میں وہ ایک مفرور اور روپوش لڑکا تھا جس کا تعاقب کیا جا رہا تھا... پھر ایک روز وہ شہابِ ثاقب کی طرح اُبھرا اور ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو اس سے پہلے یا بعد میں قائم ہونے والی ہر سلطنت سے زیادہ وسیع تھی۔ یہ شخص چنگیز خان تھا، تاریخ میں جس کا قد و کاٹھ سکندرِ اعظم، قیصرانِ روم، نپولین یا ہٹلر سے بھی زیادہ دیوقامت دکھائی دیتا ہے۔ اس نے اپنے گھوڑوں کے چرنے کے لیے چراگاہیں مہیا کرنے کی خاطر چین کے ایک بڑے حصے کو ویران کر ڈالا۔ ایک ہی معرکے میں ایک لاکھ ترکوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مغربی یورپ کی مسیحی سلطنتوں پر ایسا خوف طاری کیا جو نسلوں تک قائم رہا، اور دہشت کے بل پر ایسا امن قائم کیا کہ کہا جانے لگا: ’’ایک کنواری لڑکی سونے کی بوری اٹھائے اس کی خانہ بدوش سلطنت کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے خوف و خطر سفر کر سکتی تھی۔‘‘ چنگیز خان جب اپنے لشکر کے ساتھ نکلتا تو اس کی پیش قدمی مِیلوں کے بجائے عرض البلد اور طول البلد کے درجوں میں ناپی جاتی تھی۔ اس کی راہ میں آنے والے شہر اکثر صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے اور دریاؤں کے رخ بدل دیے جاتے۔ اس کی پیش قدمی کے راستے میں صحرا بھاگتے اور دم توڑتے انسانوں سے بھر جاتے، اور جب وہ گزر جاتا تو کبھی گنجان آباد رہنے والی سرزمینوں میں مردار خور بھیڑیے اور شکاری پرندے ہی واحد جاندار باقی رہ جاتے۔ اس سب کے باوجود یہ بے رحم جنگجو، جس نے کبھی کسی شہر میں زندگی نہیں گزاری تھی اور لکھنے کے فن سے بھی نابلد تھا، پچاس قوموں کے لیے ایک ایسا عملی ضابطۂ قوانین مرتب کر گیا جو صدیوں تک قائم و دائم رہا۔ اس عظیم مگر وحشی فاتح کی داستانِ حیات میں معروف سوانح نگار ہیرلڈ لیم نے ایک گمنام دور کی تمام تر ہنگامہ خیزی، رنگینی اور شان و شوکت سمو دی ہے، نتیجہ ایک ایسی سنسنی خیز کتاب کی صورت میں سامنے آیا ہے جو تاریخ کے قارئین اور مہم جوئی کی داستانوں کے شائقین، دونوں کو یکساں طور پر مسحور کرے گی۔

---

معروف ادیب، نقاد، مترجم، محقق اور ماہرِ تعلیم عزیز احمد 11 نومبر 1914ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حیدرآباد ہی میں حاصل کی۔ 1934ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی اے (آنرز) اور 1938ء میں لندن یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں بی اے (آنرز) کیا۔ بعدازاں 1972ء میں لندن یونیورسٹی نے انھیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری پیش کی۔ وہ اُردو، انگریزی، اطالوی، جرمن اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ مشرق و مغرب کے ادب، تاریخ اور تہذیب کے وسیع مطالعے نے ان کی علمی و ادبی شخصیت کو غیرمعمولی وسعت بخشی۔
عزیز احمد نے عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا اور جامعہ عثمانیہ میں انگریزی کے شعبے سے وابستہ رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور کچھ عرصہ کارِ سرکار سے وابستہ رہے۔ 1957ء میں لندن کے ’’سکول آف اورینٹل اینڈ افریکن سٹڈیز‘‘ (SOAS) سے وابستہ ہوئے اور بعدازاں کینیڈا کی ’’یونیورسٹی آف ٹورنٹو‘‘ میں اسلامیات کے شعبے میں تدریس و تحقیق کرتے رہے۔ اسلامی تاریخ، بالخصوص برصغیر میں اسلام، مسلم معاشرے اور جدید اسلامی فکر کے مطالعے میں ان کی تحقیقات کو علمی حلقوں میں خاطرخواہ اہمیت حاصل ہوئی۔
ادب میں عزیز احمد کی شناخت ہمہ جہت ہے۔ انھوں نے ناول، افسانہ، تنقید، تحقیق اور ترجمہ، سبھی میدانوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔ ان کے ناولوں میں ’’گریز‘‘، ’’آگ‘‘، ’’ایسی بلندی ایسی پستی‘‘، ’’شبنم‘‘، ’’خدنگِ جستہ‘‘ اور ’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں‘‘ شامل ہیں، جبکہ ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’رقصِ ناتمام‘‘ اور ’’بیکار دن بیکار راتیں‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی تخلیقی نثر میں انسانی نفسیات، سماجی تبدیلی، تہذیبی کش مکش اور فرد کے باطنی تضادات نہایت گہرائی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ تنقید و تحقیق میں بھی ان کا دائرۂ کار وسیع تھا اور اُردو و فارسی ادب کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ و تہذیب پر انھوں نے متعدد اہم تصانیف یادگار چھوڑیں۔
عزیز احمد ایک صاحبِ نظر مترجم بھی تھے۔ انھوں نے عالمی ادب اور تاریخ کی کئی اہم کتابوں کو اُردو کے قالب میں ڈھالا۔ ان کے تراجم میں ارسطو کی ’’بوطیقا‘‘(Poetics)، دانتے کی ’’طربیۂ خداوندی‘‘ (Divine Comedy)، شیکسپیئر کی ’’رومیو جولیٹ‘‘، ہنرک ابسن کا ڈراما ’’معمارِ اعظم‘‘ اور ’’مقالات گارساں دتاسی‘‘ سمیت متعدد علمی و ادبی آثار شامل ہیں۔ ہیرلڈ لیم کی ’’تاتاریوں کی یلغار‘‘، ’’تیمور‘‘ اور ’’چنگیز خان‘‘ کا زیرِ نظر اُردو ترجمہ بھی ان کے وسیع تاریخی مطالعے، زبان پر قدرت اور ترجمے کی پختہ صلاحیت کا مظہر ہے۔ ان کے ترجمے محض لفظی منتقلی کے بجائے اصل متن کے تاریخی ماحول، بیان کی روانی اور مفاہیم کو اُردو قاری تک منتقل کرنے کی کوشش کا پتا دیتے ہیں۔
عزیز احمد نے اُردو اور انگریزی، دونوں زبانوں میں وقیع علمی و ادبی سرمایہ چھوڑا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا اور ان کی تحریریں آج بھی اُردو ادب، تقابلی ادب اور اسلامی تاریخ و تہذیب کے محققین کے لیے اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔ 16 دسمبر 1978ء کو ٹورنٹو، کینیڈا میں ان کا انتقال ہوا۔

RELATED BOOKS