Suqrat (6th Edition) - Buy Online | Book Corner

SUQRAT (6TH EDITION) سقراط

Inside the book
SUQRAT (6TH EDITION)

PKR:   950/- 380/-

Author: CORA MESON
Translator: ANSA SABIHA HASSAN
Editor: SYED ABID ALI ABID
Tag: DR. KHALIFA ABDUL HAKEEM
Binding: hardback
Pages: 216
ISBN: 978-969-662-174-4
Categories: HISTORY BIOGRAPHY PHILOSOPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER

کچھ کتاب کے بارے میں:

سقراط کے زمانے سے لے کر آج تک اس کی تعلیمات کی تشریح، تائید یا تردید میں لاتعداد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مؤرخینِ فلسفہ نے بھی اس کی تعلیم کے امتیازی پہلوئوں کو واضح کرنے کی عالمانہ کوششیں کی ہیں۔ اس ناچیز نے بھی تیس برس فلسفہ کی پروفیسری کرتے ہوئے سقراط کی غیرمعمولی شخصیت کے نقوش کو فلسفہ کے طلبہ کے لیے اجاگر کرنے کی کوشش کی لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ جس دلکش انداز سے اس کتاب کی مصنفہ کورا میسن نے سقراط کے ماحول اور اس کی تعلیم کے اہم پہلوئوں کو عام قارئین کے سامنے پیش کیا ہے، اس کی نظیر کسی کتاب میں نہیں مل سکتی۔ فلسفے کو مادی سے زیادہ دلکش بنا دینا، غیرمعمولی ادبی استعداد اور تاریخی تخیل کا طالب ہے، اور یہ دونوں صفات مصنفہ میں بدرجۂ کمال موجود ہیں۔ سقراط کے معاصرین اور اس کے تلامذہ کے منتشر بیانات کو اس طرح پیش کرنا کہ نہایت درجہ کا ارتقائے فکر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے اور پڑھنے والا منطقی استدلال کی پیچیدگیوں میں الجھ کر برداشتۂ خاطر نہ ہو، فلسفیانہ ادبیات میں کم یاب اور بے حد قابلِ تحسین کوشش ہے۔ اس کتاب میں فلسفہ ایک طالبِ حق کی جستجو میں سے فطری طور پر ظہور پذیر ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سقراط زندہ جاوید انسانوں میں ہے اور اس کتاب کی مصنفہ کورا میسن نے اس کی شخصیت اور تفکر کی ایسی جیتی جاگتی تصویر کھینچی ہے جو محض کسی مؤرخِ فلسفہ کے بس کی بات نہ تھی جب تک کہ تخیل اس کا ہم عنان نہ ہو۔

کچھ مصنفہ کے بارے میں:

کورا میسن ایک ممتاز امریکی سکالر، معلمہ اور کلاسیکی علوم کی ماہر تھیں۔ اُنھوں نے اپنی تعلیم ویلزلی کالج اور یونیورسٹی آف کیمبرج جیسے نمایاں اداروں سے مکمل کی اور ریڈکلف کالج سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ کورا میسن نے کلاسیکی زبانوں اور فلسفے کی تدریس بکنگھم سکول (کیمبرج، میساچوسٹس) اور رِپن کالج (وسکونسن) جیسے اداروں میں کی، اور یونان کے کئی تعلیمی و ثقافتی دورے کیے، جنھوں نے ان کے علمی شعور کو مزید وسعت دی۔ ان کی معروف تصنیف "Socrates: The Man Who Dared To Ask" میں سقراط کی شخصیت، زندگی اور خیالات کو سادہ، مؤثر اور بصیرت افروز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کلاسیکی فکر کو عام فہم بنانے کی کوشش، اُن کی تحریر کا خاص وصف ہے۔ اُن کا اندازِ بیان نہ صرف علمی ہے بلکہ فکری تجسّس کو بھی جگاتا ہے۔

---

یونانی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ اس نے فلسفہ، مذہب، آرٹ اور سیاست میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان علامات کو بہت عروج حاصل ہوا۔ یونانیوں کے ہاں مقدس کتب نہیں تھیں بلکہ دیوتائوں کے ادبی پائے کے شاندار اساطیری قصے (Myths) تھے جن سے تقسیم کائنات کا فلسفہ سمجھنے میں آسانی ہوتی۔ قدیم یونان میں فلسفیانہ فکر کا ارتقاء تہذیب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فلاسفروں نے دیوتائوں پر مبنی قصوں اور غیر اخلاقی حصوں پر غور کرنا شروع کیا اور پھر عقلی بصیرت کی بناء پر انسانی سوچ نے نیا موڑ لیا۔ ایسے میں سقراط نے ایتھنز کے لوگوں میں ایک نئی سوچ تنقیدی نقطہ نظر سے واضح کر دی۔ مذہب کے خلاف بولنے اور نوجوانوں کی سوچ گمراہ کرنے کے جرم میں اسے موت کی سزا دی گئی۔سقراط دنیائے فلسفہ کا عظیم ترین معلم تھا۔ مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھنے کا شرف بھی اسے حاصل ہے۔ اس کے بارے میں عام لوگوں کو سوائے اس کے کچھ علم نہیں۔ حق کی خاطر اس ے زہر کا پیالہ پی لیا۔ سقراط پر کورامیسن نے کتاب تشکیل دی جس کا ترجمہ آنسہ صبیحہ حسن نے کیا۔ یہ کتاب بھی خوبصورتی سے بک کارنر شو روم والوں نے شائع کی ہے۔ سقراط کی زندگی اور اقوال کو اس کے فلسفہ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے پر کاری نہیں بلکہ سادگی کے ساتھ ہر بات بیان کی ہے جس کو پڑھ کر اس کی زندگی اور سچائی سامنے آتی ہے۔ سقراط ۴۷۰ قبل مسیح میں یونان کے مشہور شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں معلومات خال خال ہیں۔ افلاطون اور مابعد فلسفہ کے حوالے سے شواہد ملتے ہیں۔ سنگ تراش تھا۔ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اس نے یونانی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ علمی مساعی کی وجہ سے وہ اپنے بیوی بچوں اور گھر پر زیادہ توجہ نہ دے سکا۔ کتاب کی ابتدا کے سولہ صفحات میں سقراط کی تصاویر اور اقوال یکجا کئے گئے ہیں جو دیکھنے اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے مقدمہ، پیش نظر، سخن ہائے گفتنی اور مصنفہ کورامیسن کا تحریر کردہ دیباچہ ہے۔ پھر سقراط کے بچپن کا حال احوال، سنگ تراش کی شاگردی، دیوتا، لمبا سفر وغیرہ بیان کئے گئے ہیں۔ اتنے دقیق موضوع پر تحریر کردہ کتاب پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ آسان اور سلیس زبان میں سقراط کی پوری زندگی سامنے آجاتی ہے، عام فہم قاری بھی اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔ زبان، بیان اور ان کے بھر پور معنی، فکر و احساس کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ براہ راست مشاہدے کے ساتھ ساتھ آگہی حاصل ہوتی ہے۔ سقراط کی زندگی آئینہ کی طرح عیاں ہو کر اس کے اخلاق، حق پسندی، سچائی اور علمیت کے ساتھ متاثر کرتی ہے۔ سقراط کے مکالمات کو اس کے لائق شاگرد حکیم افلاطون نے اپنی تصانیف کے ذریعہ زندہ جاوید کر دیا ہے۔ یوں اس کے افکار آج بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ صداقت کے ساتھ جہالت دُور کر کے خیر و شر میں امتیاز کر کے اس سچائی کو اُجاگر کرتے ہیں جس سے انکار کرنا ممکن نہیں۔کتاب بہت اچھی ہے اور عمدہ طریقے سے شائع کی گئی ہے۔ لائبریری کی زینت بنائیے۔ قیمت مناسب ہے۔ (صغیرہ شیریں)

RELATED BOOKS