AMIR TEMUR: JISS NE DUNYA HILA DALI امیر تیمور، جس نے دنیا ہلا ڈالی
PKR: 1,250/- 875/-
Author: HAROLD LAMB
Translator: MUHAMMAD INAYATULLAH DEHLVI
Binding: hardback
Pages: 416
ISBN: 978-969-662-204-8
Categories: HISTORY BIOGRAPHY TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
Author Biography:
افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی منظر نگار ہیرلڈ البرٹ لیم (Harold Albert Lamb) یکم ستمبر 1892ء کو الپائن، نیوجرسی، امریکا میں پیدا ہوئے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں زمانۂ طالب علمی ہی سے انھیں مشرق اور مشرقِ قریب کی تاریخ، روایات اور تہذیب کے مطالعے سے گہری دل چسپی تھی۔ 1916ء میں انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ مشرقی اقوام کی تاریخ و تہذیب کے اسی مطالعے اور تحقیق سے اخذ کیے گئے ان کے ابتدائی افسانے رسالہ Adventure میں شائع ہوئے۔ اس رسالے کے مدیر آرتھر سلیون ہافمین، جنھوں نے لیم کی صلاحیت کو سب سے پہلے پہچانا، ان کے بارے میں کہا، ’’پہلے وہ عالم ہیں، اس کے بعد عمدہ کہانی کار!‘‘ ہافمین نے ان کی قوتِ تخیل، جوش و جذبے اور مشکلات کے سامنے ڈٹے رہنے کے عزم کو بھی ہمیشہ سراہا۔ ہیرلڈ لیم کو بدیسی زبانوں سے غیرمعمولی شغف تھا۔ وہ فرانسیسی، لاطینی، چینی، فارسی اور عربی سے واقف تھے اور اپنی تحریروں میں استعمال ہونے والا بیشتر حوالہ جاتی مواد خود تلاش اور جمع کرتے تھے۔ اسی وسیع مطالعے نے ان کی تاریخی تحریروں کو ایک خاص استناد عطا کیا۔ 1927ء میں لیم نے چنگیز خان کی سوانح عمری لکھی۔ اس کتاب کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد اپنی توجہ بڑی حد تک افسانہ نگاری سے ہٹا کر تاریخ اور سوانح نگاری کی طرف مرکوز کر دی۔ اپنی وفات تک وہ متعدد سوانح عمریاں اور مقبول تاریخی کتابیں تحریر کر چکے تھے۔ دو جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب The Crusades کی کامیابی سے متاثر ہو کر معروف فلم ساز Cecil B. DeMille نے انھیں صلیبی جنگوں سے متعلق اپنی فلم کے لیے مشیرِ تاریخ مقرر کیا۔ بعدازاں لیم نے کئی دوسری فلموں کے لیے بھی منظرنامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ ہیرلڈ لیم کی نثر سادہ، رواں اور اپنے ہم عصر مصنّفین سے نمایاں طور پر مختلف تھی۔ ان کی کہانیاں گہری تاریخی تحقیق پر مبنی ہوتی تھیں اور ان میں اکثر ایسے حقیقی تاریخی کردار سامنے آتے تھے جو اُن کے مغربی قارئین کے لیے نسبتاً اجنبی اور انوکھے ہوتے تھے۔ تاریخ کو خشک واقعات کے بجائے جیتی جاگتی انسانی داستان میں ڈھال دینا اُن کی تحریر کا ایک نمایاں وصف تھا۔ ہیرلڈ لیم 9 اپریل 1962ء کو روچیسٹر، نیویارک میں وفات پا گئے، تاہم تاریخ کو داستان کی دل کشی کے ساتھ پیش کرنے والی ان کی تخلیقات آج بھی انھیں مقبول تاریخی ادب کے ممتاز مصنّفین میں جگہ دیتی ہیں۔
ہیرلڈلیم کی مشہور کتاب ’’Tamerlane: The Earth Shaker‘‘ کا اُردو ترجمہ جب پہلی بار شائع ہوا تو، چونکہ لوگ اس مایہ ناز مؤرّخ کو اس کے افسانوی اندازِ بیان کی وجہ سے ناول نگار سمجھتے تھے، اس کتاب کو بھی ایک ناول سمجھا گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا ناول نہیں ہے جس کے واقعات کا تانا بانا تیمور کے گرد بُنا گیا ہو بلکہ یہ تاریخی ادب کا ایک غیرفانی شاہکار ہے۔ اس کے اوراق پر لرزندۂ جہاں، صاحبقراں، امیرتیمور گورگاں، فاتح ایشیا کی قلمی تصویر ہیرلڈلیم نے اس قدر چابکدستی سے کھینچی ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ اندازِ بیاں بےشک قصّہ گوئی کا سا ہے مگر ہر واقعہ پوری تصدیق اور چھان بین کے بعد لکھا ہے اور سونے پر سہاگا یہ ہے کہ اس کے مآخذ تیمور کے دور کی فارسی اور دیگر زبانوں کی تاریخیں یا تذکرے ہیں۔ یوں اس کتاب کو تیمور جیسی اہم تاریخی شخصیت کی ایک ایسی مستند سوانح حیات کا درجہ حاصل ہو گیا ہے جس میں مؤرخانہ اندازِ نگارش کی عمومی خشکی نہیں پائی جاتی۔
---
ازبکستان کے ایک شہر ’سبز‘ میں 9مارچ 1346ء میں امیر تیمور کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت کسی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ ایک بہت بڑا فاتح ہوگا جس نے دنیا کا مالک بننا چاہا۔ اُس نے جس کام میں ہاتھ ڈالا کامیابی اس کا مقدر بن گئی۔ آدھی دنیا سے زیادہ کو یکے بعد دیگرے مغلوب کر کے فتح حاصل کی از سر نو تعمیر کی۔اس بات کو تاریخ فراموش نہیں کرسکتی کہ دنیا کے بڑے فاتحین میں امیر تیمور سب سے آخری فاتح تھا۔ جتنی جنگیں ہوئیں ان میں فتح کامل حاصل کی صرف ایک بڑی سلطنت باقی رہ گئی تھی جسے فتح کرنے کا ارادہ تھا مگر موت نے اُسے مہلت نہ دی۔سر پرسی سائیلس تیمور کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تیمور نے جو کام کئے، وہ ایشیا کے فاتحوں میں سے کسی دوسرے سے تاریخی زمانے میں عمل میں نہیں آئے۔ اس لئے جو شہرت تیمور کو حاصل ہوئی اس کا مستحق کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ تیمور نے جو کچھ حاصل کیا وہ اس حد کے قریب پہنچا ہوا نظر آتا ہے جسے انسان کی قدرت سے بالا تر کہا جاتا ہے۔‘‘مولانا اشرف الدین لکھتے ہیں: ’’ہمت اور شجاعت نے تیمور کو تمام تاتار کی شہنشاہی پر ممتاز کیا اور اشیاء کو اس کے زیرنگیں کر دیا۔ جس قدر امور سلطنت پیش آئے اُس نے بذات خود انجام دئیے حتیٰ کہ ایک کیشئر تک نہیں رکھا، وہ ہر ایک کے حق میں فیاض تھا۔‘‘اس کتاب میں مصنف ہیر لڈلیم ہے۔ کتاب کا ترجمہ محترم محمد عنایت اللہ صاحب نے کیا ہے جس کے لئے وہ تعریف کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جس مہارت سے قارئین کے سامنے کتاب پیش کی ہے۔ انہی کا خاصہ ہے۔ تحریر میں کہیں جھول نہیں۔ وہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لئے ایک عہد کی عکاسی کرانے میں کامیاب ہیں۔ تیمور کے بچپن کا جائزہ لیتے اور قدم قدم آگے بڑھتے ہوئے اس کے بعد کی مکمل تاریخ پیش کرتے ہیں۔ قاری کو لمحہ بھر کتاب سے سحر سے آزاد نہیں ہونے دیتے۔ کتاب کو ۳۳ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔کتاب کی ابتدا میں تقریباً تیس (۳۰) نادر شاہکار تصاویر قارئین کی توجہ کی مرکز بنیں گی۔ تیمور کی زندگی سامنے عیاں ہوجائے گی۔ ناشران بک کارنر شو روم نے ایک نئی سج دھج کے ساتھ ادبی، تحقیقی حوالوں سے جو کتابیں شائع کی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اتنی خوب صورت کتابیں آپ کی نظر سے پہلے نہ گزری ہوں گی اس کتاب کو ضرور خریدیے، گھر کی زینت بنائیے۔ (صغیرہ بانو شیریں)
Reviews
Mushahid Hussain (City Parachinar. District Kurram)
