MUJHE SAB HAI YAAD ZARA ZARA مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا
MUJHE SAB HAI YAAD ZARA ZARA مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا
PKR: 1,500/- 1,050/-
Author: ANWAR MASOOD
Binding: hardback
Pages: 192
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-650-3
Categories: AUTOBIOGRAPHY MEMOIR
Publisher: BOOK CORNER
On Sale: 05 January 2026
قارئینِ کرام! یہ تصنیف بڑی تنوع کی حامل ہے۔ اِس میں کچھ ایسی یادوں کا تذکرہ ہے جو حافظے کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں اور تنہائی جنھیں دُہراتی رہتی ہے۔ بعض واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں اور کئی ایک ایسے حیرت انگیز، تحیر خیز اور ’اَن فراموش ایبل‘ ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے پر میں آج تک ششدر ہوں۔
اِن تحریروں کے بعد کا بیشتر حصہ فارسی شعر و ادب سے متعلق ہے۔ 62-1961ء کے دوران جب میں یونیورسٹی اوریئنٹل کالج لاہور میں ایم اے فارسی کی تیّاری کر رہا تھا، مجھے سیّد وزیر الحسن عابدی جیسے فارسی ادب کے جیّد سکالر کے لیکچروں سے استفادے کا موقع ملا۔ عابدی صاحب جیسے اساتذہ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کے نصابی اور غیرنصابی اِرشادات اور فرمودات میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں۔ اِن قیمتی ملفوظات کا ایک حصہ بھی اِس کتاب میں شامل ہے۔
1976ء میں مجھے جدید فارسی کی تحصیل کے لیے ایران جانے کا اتفاق بھی ہوا ہے۔ ہمیں تہران کے نزدیک واقع ایک یونیورسٹی (دانشگاهِ سپاہیانِ انقلاب) کے ہاسٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں ایران کے بڑے فاضل اساتذہ (محمد حسین خراسانی صاحب، غروی صاحب، صالحی صاحب اور اُستاد دادبِہ) کے لیکچروں کی بدولت فارسی زبان اور شعر و ادب کی نزاکتوں اور نزہتوں سے بڑی نادر آگاہی اور شناسائی حاصل ہوئی۔ 120 دنوں پر محیط قیامِ ایران کے مشاہدات اور نوٹس بھی اِس کتاب کا حصّہ ہیں۔
اب میں ان یادوں اور یادداشتوں کی گٹھڑی آپ کے حوالے کرتا ہوں… سپردم به تو مایهٔ خویش را…
میں نے کہا نہیں تھا؟… اِس پیرانہ سالی میں بھی… مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا…
(انور مسعود)
RATE THIS BOOK
RELATED BOOKS
