Qabil-e-Aitraaz

QABIL-E-AITRAAZ قابل اعتراض

Inside the book
QABIL-E-AITRAAZ

PKR:   1,995/- 1,397/-

Author: HASHIR IRSHAD
Binding: hardback
Pages: 414
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-653-4
Categories: ESSAYS MEMOIR CRITICAL THINKING
Publisher: BOOK CORNER

مجال ہے جو حاشر ارشاد کو پڑھتے ہوئے مسکراہٹ کا کوئی امکان کہیں پیدا ہو۔ طنز کا نشتر البتہ اکثر آزماتے ہیں۔ اہلِ دل اس مقام سے گزرتے ہیں تو ایسا منہ بنائے ہوئے گویا کسی نے کلہ چِیر کے لیموں نچوڑ دیا ہے۔ حاشر ارشاد اپنی افتاد میں بنے بنائے مائیکل اینجلو ہیں۔ ایک بڑا ہتھوڑا حقائق اور شواہد کا تھام رکھا ہے۔ اور اس کی پے در پے ضربوں سے دلیل کے تیشے کو اس طرح سنگین چٹانوں کے دل میں اتارتے چلے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ حاشر ارشاد نے ہم عصر اُردو نثر میں جلال کا رنگ پیدا کیا ہے۔ پڑھنے والے کی مجال نہیں کہ دم مار سکے۔ سانس روک کے پڑھنا پڑتا ہے۔ نامعلوم کس قاموس المعارف سے استفادہ کیا ہے کہ حاشر ارشاد کا قلم ’’زکنارِ ما، بکنارِ ما‘‘ طوفان اٹھاتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اب آپ میں ہمت ہے تو سامنے آئیے۔ اور واللّٰہ کس میں ایسا حوصلہ کہ سر پر توا باندھ کے حاشر ارشاد کے سامنے پڑے۔ فالحمدللّٰہ۔ (وجاہت مسعود)

ہمہ گیر بحران کے اس گنجلک پس منظر میں بھی مگر آپ کو روشنی اور حرارت کے حوالے مل جائیں گے، جیسے حاشر ارشاد کا یہ بیانیہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بیانیہ آپ کو تناؤ کے دورانیے سے نکال کر ان منطقوں کی طرف لے جائے گا جہاں نہ لوہے کے پھاٹک ہیں، نہ اونچی فصیلیں، نہ بارود کی عذر خواہی۔ یہ وہ زمرے ہیں جہاں خاموشیاں سانجھ اور جڑت کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہیں اور پُراسرار راتوں نے بے چین سینوں کے لیے روشن صبحوں کے سندیسے لکھ رکھے ہیں۔ (فرخ یار)

حاشر ارشاد کا نام ایک خاص تاریخی اور لسانی تہذیب میں گندھا ہوا ہے، سو وہ اپنے نام کی نسبت سے اپنی تحریر کے ذریعے پہلے لوگوں کو متوجہ اور اکٹھا کرتے ہیں اور پھر ان کی فکری تربیت کرتے ہیں، انھیں علمی سوال اٹھانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں رواج یہ ہے کہ ہم اپنے بیشتر وراثت میں ملے ہوئے یا روایتی نظریات پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر جدید حقائق اور تازہ فکر ان سے متضاد ہوں تو ہم جدید حقائق اور تازہ فکر کو مسترد کرنے میں لمحہ نہیں لگاتے، دوسری جانب ہمارے جدید عقلیت پسند ساتھی روایتی نظریات کے سیاق وسباق کو سمجھے بغیر انھیں رد کرنے میں تامل نہیں کرتے۔ اپنے پورے تہذیبی ورثے کو سمجھ کر اور اس میں موجود خامیوں کی منطقی نشان دہی کرکے خرد افروزی اور روشن خیالی کے نئے باب وا کرنا حاشر کو ممتاز کرتا ہے۔ زیرِنظر مضامین میں شامل کسی بھی رائے سے قاری کے اختلاف کرنے کا حق محفوظ ہے، مگر یہ تحریریں بلا شبہ انسان دوستی اور علم پروری کو سماج میں غالب لانے کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ (حارث خلیق)

جن معاشروں میں رائج افکار، بااثر شخصیات، معاشرتی رشتوں اور انسانی جذبات کو باریک بینی، غیر جانبداری اور مثبت تنقیدی زاویوں سے دیکھنے والے ناپید ہوتے جائیں وہاں رفتہ رفتہ عامیانہ باتیں عقیدہ بن جاتی ہیں۔ اوسط سے بھی کم درجے کے لوگ دیوتا، معاشرتی رشتے زنجیراور انسانی جذبات بوجھ۔ حاشر ارشاد صاحب کی طبیعت میں سنجیدہ اور ذہین سوال پوچھے بغیر کسی بھی بات پر اعتقاد لے آنے کا میلان سِرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ وسیع المطالعہ بھی ہیں، حسّاس بھی اور منطقی اور مدلل گفتگو کے فن سے پوری طرح واقف بھی۔ اُن کی تحریر میں جاذبیت بھی ہے اور روانی بھی۔ اُن کے مضامین کا مجموعہ نثری دلکشی اور موضوعات کے تنوّع اور دلچسپی کے باعث ایک عمدہ کاوش تو ہے ہی، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مجموعہ بےباکی اور خلوص سے روشن خیالی اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی تحریک دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے عاقل اور متجسّس سوچنے والوں اور ان کی کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ (اسامہ صدیق)

تحقیق کے پیامبروں کا ماننا ہے کہ بے ترتیبی کے کچھ بندوبست ایسے بھی ممکن ہیں کہ برساتی جنگلوں میں اپنے کومل پَر پھڑپھڑاتی تتلی، ہزاروں میل دور مہا ساگر میں طوفان کا موجب ٹھہرے۔ دس برس پہلے حاشر بھائی کی پہلی تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ ایسے کون لکھتا ہے۔ مکان کی سرائے سے زمان کے ساربان مسلسل قافلے بڑھاتے رہے تو پتا چلا کہ مدھم لفظوں کی مستقل پھوار، بے ترتیبی کے نظام میں تتلی سے تلاطم کا رشتہ جوڑ رہی ہے۔کسی نے پوچھا کہ حاشر بھائی کیوں لکھتے ہیں؟ کیا وہ اس بات کا درک نہیں رکھتے کہ ہم، سوال سے منکر اور استفسار سے برگشتہ لوگ ہیں۔ کیا وہ لاعلم ہیں کہ حفاظت کی سنگین نےشعور کی بے ساختگی چھین لی ہے۔ جواب میں بہت جمع تفریق کے بعد ایک ہی بات سمجھ آئی کہ پڑھنے والوں کے بارے میں تو دعویٰ محال ہے مگر لکھنے والا جانتا ہے کہ شاید ان ساحلوں پہ جمود کا کوئی موسم ٹھہر گیا ہے۔ ایسے موسموں میں میناروں پہ تعینات راسخ العقیدہ دید بان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ روشنی کا نشان قائم رہے، شاید اسی لیے حاشر بھائی کا لکھتے رہنا بہت ضروری ہے۔ (محمد حسن معراج)

حاشر کی شہرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی کتاب پڑھنے سے جب تک بچ سکتے ہیں، بچ جائیں۔ بھئی کیوں پڑھیں وہ چیزیں جنھیں پڑھ کے پہلے سے بہکا ہوا دماغ مزید بہکے۔ لیکن کب تک نہ پڑھتے؟ قابلِ اعتراض مواد کب تک تکیے کے نیچے رکھ کے بتی آنے کا انتظار کیا جائے؟ ایسی چیزیں ٹارچ کی روشنی میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، بلکہ پڑھنی بھی ایسے ہی چاہییں۔ پہلا مضمون پڑھا اور کہانی ہی پلٹ گئی۔ سوشل میڈیا پہ استعمال ہونے والے تھمب نیل کی طرح پسِ آئینہ کچھ بھی قابلِ اعتراض نہ نکلا۔ صاف ستھری نثر، پُرخلوص قلم اور سیدھا کھرا مشاہدہ۔ اتنے سامنے کی بات کہ پڑھنے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بات تو میں بھی محسوس کرتا ہوں تو کیا میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں؟ بالکل نہیں، یہ اسلوب، سہل ممتنع کی طرح ہر ایک کے بس کی بات نہیں، سوز کی یہ ہنڈ کلیہہ ہر کوئی نہیں پکا سکتا۔ اس کے لیے حاشر کا کلیجا اور حاشر کا قلم چاہیے۔ (آمنہ مفتی)

حاشر ارشاد کے مضامین پر مجھے بہت سارے اعتراضات ہیں۔ حضرت کے موضوعات، ان کی جہات، تمام موٹے اور باریک نکات، حد یہ کہ ان کے اعتراضات بھی قابلِ اعتراض ہیں۔ سب سے زیادہ قابلِ اعتراض ان کی دیدہ دلیری ہے۔ یہ صاحب کیوں نہیں جانتے کہ اس معاشرے میں ہیلمٹ پہنے بغیر سنجیدہ گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر سوچنے پر نہیں اکسایا جاسکتا۔ اور سوال اٹھانے سے پہلے کئی ہزار میل کا فاصلہ ضروری ہے۔ ملزم کی فردِ جرم بہت طویل ہے۔ کئی مدعیان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کی ہر تحریر اور گفتگو کا نتیجہ کسی نہ کسی طبقے کے جذبات میں ابال لانے کا سبب بنتا ہے۔ کسی تحریر پر عقلیت پسندوں کے دل خوشی سے بھرے ہوئے ملے ہیں۔ کسی تحریر پر نوجوانوں میں مطالعے کی جستجو اور تڑپ پیدا ہوتے دیکھی گئی ہے۔ کسی تحریر پر ادب کے قاری وجد میں دکھائی دیے ہیں۔ علی شریعتی سے ایک قول منسوب ہے کہ ایک جاہل معاشرے میں صاحبِ شعور ہونا جرم ہے۔ میں اس کی تائید کرتا ہوں اور حاشر ارشاد کو عادی مجرم قرار دیتا ہوں۔ یہ کتاب ان کے جرائم کا اہم ثبوت ہے۔ معاشرے کے لیے اس سنگین جرم کی پاداش میں انھیں تاحیات کربِ دانائی اور دشنامِ جہل کو بھگتنا پڑے گا۔ میں اُنھیں مسلسل ایسے مضامین لکھنے اور کتابی صورت میں چھپوانے کی سزا سناتا ہوں۔ (مبشر علی زیدی)

RELATED BOOKS