Udaari - Buy Online | Book Corner

UDAARI اڈاری

UDAARI

PKR:   1,500/- 1,050/-

Author: ZAINAB DAR
Binding: hardback
Pages: 240
Year: 2026
ISBN: 978-969-662-714-2
Categories: POETRY PUNJABI LITERATURE
Publisher: BOOK CORNER

زینب دی شاعری دی کتاب ’’ اُڈاری‘‘ بارے کچھ گل بات کرن توں پہلاں عرض کراں کہ زینب پُنر جاگرن عورت یعنی "Renaissance Woman" ہے۔ سماجی علوم تے معاشیات پڑھ کے جامعات وچ پڑھاندی، گیت گاندی، ناٹک کردی، چتر کاری، لیڑے کپڑے تے کڑھائیاں کردیاں کردیاں کلاسیکی ناچ ول آئی۔ آپ سکھّن توں بعد ہُن کتھک سکھاندی ہے، سگوں ’’فنا فی الکتھک‘‘ ہے۔ پر ادب تے شاعری اوہدے ساہواں وچ سمائے ہوئے نیں۔ ایہہ زینب دی نظماں دی پہلی کتاب ہے جیہدے وچ شامل نظماں کئی دہاکیاں وچ لکھیاں گئیاں نیں۔ زینب دی حیاتی، اوہدی سوچ، سوال، غمّاں تے خوشیاں دے نال ہست و نیست دا مکالمہ ہے۔
’’اُڈاری‘‘ وچ نظماں نوں زینب چج نال رکھیا ہے۔ ’’ اُڈاری‘‘ سر ناواں، حصّے ’’میلہ‘‘، ’’دھرتی‘‘، ’’ناری‘‘، ’’پنجاب‘‘۔ وزیر آغا دا شعر ہے:
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
سارا لہو بدن کا رواں مُشتِ پر میں تھا
زینب دے بدن دا سارا لہو اوہدے پراں وچ ہے۔ ایس اُڈاری وچ زینب پراں دے تھلے دنیا دا میلہ تکدی ہے۔ ایس میلے وچ انساناں دا میل جول ہے، رشتے نیں، رشتیاں دیاں اُلجھناں نیں، ہتھ ونڈانا تے ہتھ چھڈانا ہے، یار تے ویری نیں، آس اُمید ہے، اُداسی ہے۔ زینب آکھدی ہے:
کُجھ سفنے ٹُٹّے بھجّے نیں
کُجھ گیڑے سجّے کھبّے نیں
ایہہ کُھلّی اکھ دا جھانسا ہے
ایہہ دنیا کھیڈ تماشا ہے
***
رشتے دے گُنجل ڈاڈھے سَن
اسیں کڈھ کڈھ کے کملا بیٹھے
اک رشتے دا مُل پاون نوں
اسیں اپنا آپ ولا بیٹھے
انساناں دا میلہ دھرتی دی سجاوٹ ہے پر ایس سجاوٹ وچ موسم، خشبو، بہار، پت جھڑ سبھ شامل نیں۔ دھرتی اُتّے اوہ رُکھ اُگیا ہے جیہدی شاخ تے اسمان توں زینب اُتر کے پاہ لیندی ہے۔ چّنج وچ بُور بھر کے فیر لمّی اُڈاری مار دی ہے۔
(حارث خلیق)

احساسات کا تعلق براہِ راست روح سے جڑا ہوتا ہے، اور ان احساسات و خیالات کے اظہار کے لیے ایک منفرد اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے قدیم زمانے سے صوفیا اور دانش وروں نے اپنے باطن کے اظہار کا بہترین وسیلہ شاعری میں تلاش کیا۔
زینب ڈار ایک کثیر الجہت شخصیت کی مالک ہیں۔ وہ ایک بہترین آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ شاعرہ بھی ہیں۔ زینب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ارادے میں غیر معمولی پختگی رکھتی ہیں، اور یہی پختگی ان کے فن کو نکھارتی اور اسے ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔
شاعری میں خیال بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن کسی خیال کو پختگی اور وسعت دینے کے لیے اس کا اپنی دھرتی میں گہری جڑوں سے جڑا ہونا ضروری ہے۔ زینب کی جڑیں پنجاب کی مٹّی میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ ان کی شاعری کا دائرۂ احساس اپنی دھرتی کے گرد گردش کرتا ہے، جہاں قدرت کے پانچ عناصر سے لے کر موسموں، فصلوں، عورت اور قدیم روایات کی گہرائیوں تک، زندگی کے مختلف رنگ اپنی پوری معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
زینب کبھی بُلّھے شاہ سے مخاطب ہوتی ہیں تو کبھی دُکھوں اور خوشیوں سے ہم کلام نظر آتی ہیں۔ میں نے حالیہ عرصے میں پنجابی شاعری کو محض افسانوی تخیل سے آگے بڑھ کر اپنی ثقافت، مضبوط لسانی بنیادوں اور دھرتی کے حقیقی مزاج سے جڑا ہوا کم ہی دیکھا ہے، لیکن زینب نے یہ کمی بڑی حد تک پوری کر دی ہے۔
انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے زبان، روایات، دھرتی اور اس کے لوگوں کے مزاج و احساسات کو نہایت خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے، یوں ان سب کو آنے والے وقتوں کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
قدرت یقیناً زینب پر مہربان ہے کہ اس نے ان کے حصّے میں اتنا بڑا تخلیقی کام رکھا۔ ’’اُڈاری‘‘ ادبی کاوشوں کا ایک اہم سرچشمہ ہے، اور مجھے یقین ہے کہ زینب ڈار اپنی اس ادبی کاوش کے ذریعے، بالخصوص پنجابی ادب میں، ایک منفرد اور باوقار مقام ضرور بنائیں گی، اور یہ تخلیقی سفر جاری رہے گا۔
(زبيـده بروانی)

زینب ڈار کی شاعری آپ اب پڑھیں گے، مجھےتو براہِ راست سننے کا شرف حاصل رہا ہے۔
کئی دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے حیرت میں آ کر ان سے باقاعدہ پوچھا کہ یہ خیال آپ کو کیسے آیا؟ یہ چیز کہاں سے آئی؟ ابھی حال ہی میں ایک واردات ہوئی کہ پنجابی کے وہ لفظ، جو نئی نسل زیادہ استعمال نہیں کرتی، ایسے کچھ الفاظ ان کے کلام میں سنے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے، کدھر سے سنے آپ نے؟ تو انھوں نے بتایا کہ یہ میری نانی استعمال کرتی تھیں۔
اب جس چیز میں بزرگ آ گئے، روایت آ گئی، وہ اپنی جڑ سے دُور کیسے ہو سکتی ہے؟
تو یہ بات پہلی نظر میں سمجھ آتی ہے کہ اُڈاری ایسی شاعری ہے جو باہر کی تحریکوں سے متاثر ہونے کی بجائے خود اپنی گہرائی میں جا کر ڈھونڈی گئی اور کہی گئی باتیں ہیں، اسی لیے انوکھی لیکن دل کے قریب محسوس ہوتی ہیں۔
اسے عام محاورے میں لوک رہتل سے جڑا ہونا سمجھ لیجیے۔
پھر زینب کے کلام میں ہر وہ خوبی موجود ہے جو ایک سُچّے پنجابی شاعر کے کلام میں موجود ہوتی ہے۔ ایک تو جذبے سے بھرا ہوا، اس کے بعد میوزک پہ، ماترے پہ پورا بیٹھتا ہوا، پھر لفظ۔۔۔ جو ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ان کے آگے۔ ادھر سوچا، یہ کھڑے لفظ سر جھکائے۔۔۔ اور پھر، جو آخری چیز ہے وہ خیال ہے۔
مطلب ایسا باریک خیال بعض اوقات ڈھونڈ کے لاتی ہیں کہ آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ یار، یہ ہم کیوں نہیں سوچ پائے؟ یہ تو ادھر سامنے پڑا ہوا تھا۔
ماترے پہ پورا یہ کلام اس لیے بھی ہے کہ یارو زینب ڈار بذاتِ خود موسیقی کا دوسرا نام ہیں۔
زینب عجیب بےمثال کلاسیکی رقص کرتی ہیں۔۔۔ بلکہ ایک منٹ۔۔۔ کون سا فن ایسا نہیں ہے جس میں انھیں درک حاصل نہ ہو۔۔۔ مصوّری، انٹیریئر ڈیزائننگ، گلوکاری، اداکاری، رقص، شاعری، سٹیج پلے لکھنا۔۔۔ مطلب ایک افسانہ لکھ لینا اور چیز ہے، اور اسے سٹیج کی شکل دے دینا؟ تو وہ چیز بھی زینب کرتی ہیں۔ تقریر آپ زینب سے کروا لیجیے، تدریس آپ ان سے کروا لیجیے۔۔۔ مطلب کوئی ایک فن ایسا نہیں ہے جو خدا نے زینب کو نہ بخشا ہو اور جس کو انھوں نے انتہا تک پہنچا کر دم نہ لیا ہو۔
یہ پہلے ہی جانچا پرکھا کلام ہے، چونکہ قبولِ عام کے لیے خاص چیز پیش بھی کرنا پڑتی ہے تو بس انجوائے کیجے۔
اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو میرے نزدیک زینب ڈار کی شاعری میں ہر وہ خوبی ہے جو کسی کلام کو گائے جانے، زبان زدِ عام ہونے اور فوک روایت میں بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔
(حسنین جمال)

RELATED BOOKS