DELHI - A NOVEL دلی (ناول)
PKR: 1,800/- 1,260/-
Author: KHUSHWANT SINGH
Translator: YASIR JAWAD
Binding: hardback
Pages: 400
ISBN: 978-969-662-437-0
Categories: WORLD FICTION IN URDU NOVEL WORLDWIDE CLASSICS TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER
Author Biography:
خوشونت سنگھ (Khushwant Singh) 2 فروری 1915ء کو متحدہ ہندوستان کے قصبے ہڈالی (جو اَب پاکستان کے ضلع خوشاب کا حصہ ہے) میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستان کے ممتاز ناول نگار، صحافی اور کالم نویس تھے۔ انھوں نے سینٹ گورنمنٹ کالج لاہور، کنگز کالج لندن اور اِنر ٹیمپل لندن سے تعلیم حاصل کی۔ 1947ء میں ہندوستان کی وزارتِ امورِ خارجہ میں شامل ہونے سے قبل کئی برس تک لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے رہے۔ وہ ہفت روزہ رسالے ’’یوجنا‘‘ کے بانی مدیر رہے اور ’’السٹریٹڈ وِیکلی آف انڈیا‘‘، ’’نیشنل ہیرالڈ‘‘ اور ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کی ادارت بھی کی۔ ان کا ہفتہ وار کالم ’’سب کے لیے، بغض کے ساتھ‘‘ (With Malice towards One and All) ہندوستان کے متعدد اخبارات میں شائع ہوتا تھا اور ملک کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالموں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انگریزی میں لکھنے والے مابعد نوآبادیاتی عہد کے اہم ناول نگاروں میں خوشونت سنگھ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ 1980ء سے 1986ء تک ہندوستانی پارلیمان کے رکن رہے۔ 1974ء میں انھیں پدم بھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا، تاہم 1984ء میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انھوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا۔ جولائی 2000ء میں سولبھ انٹرنیشنل سوشل سروس آرگنائزیشن نے انھیںHonest Man of the Year کا ایوارڈ دیا۔ خوشونت سنگھ کی متعدد تصانیف میں شاہکار ناول Delhi کے علاوہ دو جلدوں پر مشتمل A History of the Sikhs اور The Company of Women شامل ہیں۔ انھوں نے 1947ء میں تقسیمِ ہند کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا تھا اور اس واقعے نے انھیں اتنا متاثر کیا کہ اپنی مشہورِ زمانہ اور مایۂ ناز کتاب Train to Pakistan لکھ ڈالی جسے غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انھوں نے ہندی اور اُردو شعر و ادب کے انگریزی تراجم بھی کیے جن میں علامہ محمد اقبال کی ’’شکوہ جوابِ شکوہ‘‘، مرزا محمد ہادی رُسوا کا ’’امرائو جان ادا‘‘ اور راجندر سنگھ بیدی کا ’’اِک چادر میلی سی‘‘ شامل ہیں۔ 2002ء میں اُن کی آپ بیتی Truth, Love and a Little Malice منظرِ عام پر آئی۔ خوشونت سنگھ 20 مارچ 2014ء کو نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ اُن کی چتا کی راکھ کا کچھ حصہ سجان سنگھ پارک میں واقع ان کے فلیٹ کے عقبی باغ میں اُن کے پسندیدہ درخت کے نیچے دفن کیا گیا۔ کچھ راکھ کسولی میں واقع ان کے گھر لے جائی گئی۔ باقی راکھ اُن کی بیٹی مالا دَیال نے معروف پاکستانی ادیب فقیر سیّد اعجازالدین کے حوالے کی تاکہ اپنے والد کی خواہش کے احترام میں اسے ان کی جنم بھومی ’’ہڈالی‘‘ میں سپردِخاک کیا جائے۔ فقیر سیّد اعجازالدین راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی ہندوستان سے پاکستان لائے اور 22 اپریل 2014ء کو ہڈالی کے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کی دیوار میں محفوظ کیا جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔
میں دِلّی کی طرف اُسی طرح واپس آتا ہوں جیسے غیر ممالک میں رنڈی بازی سے طبیعت سیر ہو جانے پر اپنی محبوبہ بھاگ متی کی طرف آتا ہوں۔
ان الفاظ کے ساتھ دِلی شہر کے بارے میں خوشونت سنگھ کا وسیع، شہوانی، غیر مؤدبانہ شاہکار شروع ہوتا ہے۔ چھ سو سال سے زائد عرصے پر محیط داستان کو بیان کرنے والا مرکزی کردار ایک ناشائستہ، عمر رسیدہ عیاش آدمی ہے جو دِلی سے بھی اُتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی ہیجڑا رنڈی بھاگ متی سے، جو مردوں اور عورتوں دونوں والی جنسی ندرتیں لیے ہوئے ہے۔
داستان گو اپنے پیارے شہر کو ’دریافت‘ کرنے کی خاطر زمان و مکان اور تاریخ میں سفر کرتے ہوئے بے شمار لوگوں، شاعروں اور بادشاہوں، اولیا اور سلاطین، دل فریب عورتوں اور غداروں، شہنشاہوں اور ہیجڑوں سے ملتا ہے جنھوں نے دِلی کو بنانے اور پراسراریت عطا کرنے میں حصہ لیا یا تاریخی واقعات کو خود دیکھا۔ اور اِس داستانی سفر میں ہم اُس کے ہمراہ شہنشاہوں کے شہر کو اپنے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے منقلب ہوتے لافانی بنتے پاتے ہیں۔
