Sab Rang Kahaniyan (Vol: 10)

SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 10) سب رنگ کہانیاں (والیم 10)

Inside the book
SAB RANG KAHANIYAN (VOL: 10)

PKR:   1,995/- 998/-

Author: SHAKEEL ADIL ZADAH KA NIGARKHANA
Editor: HASAN RAZA GONDAL
Binding: hardback
Pages: 375
ISBN: 978-969-662-646-6
Categories: WORLD FICTION IN URDU SHORT STORIES TRANSLATIONS
Publisher: BOOK CORNER

جس طرح پاکستان میں ہم لوگوں کو جمہوریت کا انتظار رہتا ہے، وہ آتی ہے پھر طویل عرصے کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہم لوگوں کو سب رنگ ڈائجسٹ کا انتظار رہتا تھا، وہ آتا تھا اور پھر غائب ہو جاتا تھا۔ باہر کے لکھنے والوں کی بات تو رہنے دیں یہاں کے لوگ اندر کے لکھنے والوں کو نہیں جانتے، مگر سب رنگ نے پڑھنے والوں کو دنیا بھر کے رنگ سمندر پار ادیبوں کی لکھی ہوئی کہانیوں میں دکھائے۔ ’’سب رنگ‘‘، ڈائجسٹ نہیں تھا ایک کتاب تھی۔ یہاں چوبیس کروڑ کی آبادی میں تین چار لوگ رہ گئے ہیں جن سے مل کر مزید زندہ رہنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے ان میں سے ایک شکیل عادل زادہ صاحب ہیں۔ بہت کچھ جانتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔ ان کا شاہکار ڈائجسٹ ’’سب رنگ‘‘ بھی بہت عرصہ ہوا خاموش ہوگیا تھا مگر خوش قسمتی سے سب رنگ کی ساری کہانیاں اب کتابی شکل میں موجود ہیں، شکریہ حسن رضا گوندل صاحب، جیتے رہیے۔
(انور مقصود)

’’سب رنگ‘‘ ادب و نثر میں میرا استاد ہے۔ اپنے تمام اساتذہ کو ہم ’سر‘ کہہ کر مخاطب اور یاد کرتے ہیں۔ ’سر سب رنگ‘ بچپن ہی سے میرا پسندیدہ استاد بن گیا۔ ’سر سب رنگ‘ کی پسندیدگی سے مجھے نثر اور ادب سے گہرا لگاؤ اور محبت پیدا ہو گئی۔ کئی کئی ماہ بعد ’سر سب رنگ‘ کا دیدار ہوتا۔ جوں ہی ’سر سب رنگ‘ کی صحبت مجھے میسّر آتی میرا حال دیکھنے والا ہوتا۔ وصال کی کیفیت میں ’سر سب رنگ‘ استاد سے زیادہ میری محبوبہ بن جاتا۔ میں اس کے سرورق پر موجود حسینہ کی رعنائیوں میں کھو جاتا۔ سب سے پہلے ’’بازی گر‘‘ یا ’’امبربیل‘‘ کی باری آتی جن میں حسن و عشق کے اسباق تو دل پذیر ہوتے ہی تھے، لڑائیاں اور مقابلے بھی اس قدر دلچسپ ہوتے کہ لڑائی کے ایک ایک داؤ پر داد دینے کو دل چاہتا۔ ان اقساط کے بعد اُردو ادب کے عطر کی باری آتی۔ شکیل عادل زادہ کے ہر حاشیے میں وہ ذائقہ ہوتا کہ ان کے اقوال آج تک ذہن میں تازہ ہیں۔ پھر تراجم شدہ دنیا بھر کی کہانیاں پڑھی جاتیں۔ ’سر سب رنگ‘ کو ہم سے روٹھے کئی سال ہو گئے مگر وہ ہمارے دل اور ذہن میں ادب اور تجسّس کی لت لگا گیا ہے۔ شکیل عادل زادہ نے اُردو کو جو بے مثل و بے مثال ’استاد‘ عطا کیا، ہمارے برادر حسن رضا گوندل نے سب رنگ کہانیاں کو محفوظ کر کے اس ’استاد‘ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ہے۔
(سہیل وڑائچ)

RELATED BOOKS